04:13 pm
صورتحال مکمل تبدیل ہوگئی، 2023ء کے عام انتخابات میں بھی آرمی چیف’’جنرل قمر باجوہ‘‘ہونگے اور ۔۔۔! بڑی خبر

صورتحال مکمل تبدیل ہوگئی، 2023ء کے عام انتخابات میں بھی آرمی چیف’’جنرل قمر باجوہ‘‘ہونگے اور ۔۔۔! بڑی خبر

04:13 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا اور چھ ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راہی صاحب کہاں ہیں؟ ساتھی وکلا نے کہا کہ راہی صاحب کھانا کھانے گئے تھے۔عدالت نے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا۔
حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کی توسیع چیلنج ہوئی۔ حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی۔ انہوں نے کاہا کہ حکومت ایک سے دوسری پوزیشن لیتی رہی۔تین دن میں حکومت نے بہت سی پوزیشنز تبدیل کیں۔ ہم نے آرمی ایکٹ 1952 اوررول 1954 سمیت دیگر قوانین کا بھی جائزہ لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ چھ ماہ میں قانون سازی کر لی جائے گی۔ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں۔ آرمی چیف کی مقررہ تقرری چھ ماہ کے لیے ہو گی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج مختصر فیصلہ سنا رہے ہیں، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کریں گے۔ جس کے بعد عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دے دی۔اسی حوالے سےسینئر صحافی کامران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت دلچسپ منظرنامہ ہو جائے گا۔حکومت کو قانون نافذ کرنے کے لئے مئی 2020 تک کا وقت حاصل ہوگا۔اس قانون کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع کاباقاعدہ نوٹیفیکیشن مئی 2020 میں جاری ہو گا۔اس کا مطلب ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ 2023ء تک آرمی چیف رہیں گے۔کامران خان نے کہا کہ آرمی چیف شاید 2023ء کے انتخابات کے بعد ریٹائرڈ ہوں گے۔کامران خان نے مستقبل کی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئےے کہا کہ اسے تسلسل کہتے ہیں۔✔جب کہ سینئرصحافی طلعت حسین نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل باجوہ چاھتے ھیں 3 سال۔ جو 3 سال کے بعد سینر ہوں گے وہ بھی چاہتے ھیں 3 سال۔ جو 7 ماہ بعد سینیر ہوں گے وہ سوچتے ھیں 6 ماہ۔عمران خان چاھتے ھیں 4 سال تا کہ اگلے انتخابات بھی پچھلے جیسے ہوں۔ حزب اختلاف مانگتی ہے نیے انتخابات اور پھر دے گی 3 سال۔ پوچھنا تھا کشمیر کا کیا کرنا ہے؟

تازہ ترین خبریں