03:54 pm
مبین صولت کیخلاف پشاور لاہور آئل پائپ لائن منصوبہ میں مبینہ کرپشن پر تحقیقات شروع

مبین صولت کیخلاف پشاور لاہور آئل پائپ لائن منصوبہ میں مبینہ کرپشن پر تحقیقات شروع

03:54 pm

اسلام آباد (آن لائن) نیب حکام نے انٹرسٹیٹ گیس سروسز کے سربراہ مبین صولت کیخلاف لاہور، پشاور آئل پائپ لائن منصوبہ میں مبینہ اربوں کی کرپشن بارے منصوبہ کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، اس منصوبہ کا ٹھیکہ من پسند کمپنی ذیشان انٹرپرائزز کو دینے پر وزیراعظم انسپکشن ٹیم نے بھی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات مکمل کر رکھی ہیں اور کمپنی کے انتخاب میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی تھی
کیونکہ مشاورتی فرمکو ٹھیکہ دے کر اربوں روپے کی بددیانتی کا شاخسانہ ظاہر کیا گیا تھا جس پر سابق دور میں وزیراعظم نے ازخود ایکشن لیا تھا اور اس منصوبہ میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کاحکم دیا تھا۔ پشاور سے اسلام آباد آئل پائپ لائن منصوبہ پارکو نامی کمپنی کے تعاون سے مکمل کیا جانا تھا ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب کے تحقیقاتی افسران نے مبین صولت کیخلاف جاری تحقیقات میں اس منصوبہ کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے اور ریکارڈ کی دیکھ بھال کرنے میں مصروف ہیں۔ مبین صولت ایل این جی کرپشن سکینڈل میں جرم کا اقرار کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اور اگلے چند ہفتوں میں احتساب عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزم مبین صولت کیخلاف جاری تحقیقات میں کافی مواد مل چکا ہے جس کی بنیاد پر ان کیخلاف تحقیقات شروع ہوں گی۔ مبین صولت بنیادی طور پر اکائونٹنٹ ہیں جس کو ملک کے بڑے گیس منصوبوں کا سربراہ بنایا گیا ہے کیونکہ ان کے پیچھے طاقتور مافیا کا ہاتھ ہے مبین صولت نے انٹرسٹیٹ گیس سروسز کا سربراہ بن کر اربوں روپے لوٹ مار کی ہے جس کا وہ خود قرار بھی کر چکے ہیں۔ نیب نے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا تھا لیکن وزارت پٹرولیم کے افسران نے ان کا نام نکلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران بیرونی دورے کے مزے لے کر مبین صولت کے طرفدار بن چکے ہیں تاپی گیس منصوبہ، پاک ایران گیس منصوبہ، نارتھ سائوتھ گیس منصوبہ میں اربوں روپے کی کرپشن ہو چکی ہے لیکن ایک منصوبہ بھی مکل نہیں ہوا۔ تاپی گیس منصوبہ سیکرٹریٹ میں پاکستان کی نمائندگی غیر ملکی انگریز کر رہا ہے جبکہ پاک ایران گیس منصوبہ بھی نامکمل ہے مبین صولت نے کمیشن میں من پسند افراد کو نواز رکھا ہے جبکہ کمیشن کے اخراجات ماہانہ کروڑوں روپے ہیں جس کا اب قائمہ کمیٹی نے بھی نوٹس لے لیا ہے مبین صولت کے اثاثوں بارے بھی تحقیقات مکمل ہونے والی ہیں۔