08:56 am
عمران خان ایک ارب درختوں کا حساب دیں، مولانا فضل الرحمان

عمران خان ایک ارب درختوں کا حساب دیں، مولانا فضل الرحمان

08:56 am

پشاور: جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عمران خان ایک ارب درختوں کا حساب دیں، دکھائیں ایک ارب درخت کہاں ہیں؟ تم نے80 کروڑ درختوں کا پیسا کہاں لگایا اس کا حساب لیا جائےگا، اس طرح کی کرپٹ حکومت زندگی میں نہیں دیکھی،حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کوقریب ہے۔ انہوں نے پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ تمام حکومتوں سے زیادہ قرضے ایک سال کے دوران لیے۔
 
تم نے کہا ایک ارب درخت لگائے ہیں، دکھائیں ایک ارب درخت کہاں ہیں۔ ایک ارب درخت کہاں چلے گئے اس کا حساب لیا جائے گا۔ تم نے80 کروڑ درختوں کا پیسا کہاں لگایا اس کا حساب لیا جائےگا۔ اس طرح کی کرپٹ حکومت شاید زندگی میں نہ آئی ہو۔انہوں نے کہا کہ تم نے پچھلی حکومت کے قرضوں پرکمیشن بنایا اس کا کیا ہوا۔ کمیشن نے بتایا کہ ماضی کی حکومتوں کا پیسا صحیح جگہ لگایا۔انہوں نے کہا کہ تمہاری حکومت میں لوگ خودکشی کررہے ہیں کون پوچھے گا۔ ہم اس تحریک کو قومی یکجہتی سے اورآگے بڑھائیں گے،فتح کے قریب ہیں۔ ہماری تحریک منزل پر پہنچنے والی ہے۔ حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے کوقریب ہے۔ مولانافضل الرحمان نے کہا کہ ایسی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ایسی حکمرانی کوچلنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئین کی حکمرانی کے لیے ہم نے جو قدم اٹھایا تھا وہ اپنی منزل پر پہنچ رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پورے پاکستان کو بی آرٹی بنا دیا گیا ہے یہاں پورے پشاور کو کھنڈر بنا کر بھی جیت گئے اس کو کہتے ہیں دھاندلی اگر کسی اور شہر میں بی آرٹی کھنڈر ہوتا تو عوام ووٹ ہی نہ دیتے۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک اور قوم کا پیسہ ضائع کررہے ہیں، بی آر ٹی منصوبے میں ایک کلومیٹر کی لاگت ڈھائی ارب روپے آئی ہے۔اس حکومت نے ایک سال میں سب سے زیادہ قرضے لیے اور پہلی بار اسٹیٹ بینک ایک ارب روپے سے زائد کے خسارے میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایشیائی ترقیاتی بینک سے ایمرجنسی کرائسسز قرضہ لیا جا رہا ہے تاہم ان بحرانی قرضوں کا نتیجہ کیا نکلے گا ملک کی خارجہ پالیسی بھی بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اب انہیں پاکستان پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوںنے کہا کہ تحریک انصاف کی اپنی حکومت احتساب کمیشن کے شکنجے میں آگئی لیکن وفاق میں آکر انہوں نے پورا احتساب کمیشن ختم کر دیا۔ قوم تحقیقات کا کہتی ہے تو یہ عدالتوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کے اپنے کمیشن کے مطابق گزشتہ 10 سال میں لیے گئے قرضے صحیح اکاؤنٹس میں آئے ہیں۔