01:25 pm
کوئی جرم ثابت نہیں مگرپنجاب پولیس کے سپوتوںنے فوٹو سیشن کرواکے پوری دنیا کے سامنے انہیں ذلیل کرنا بہادری سمجھا

کوئی جرم ثابت نہیں مگرپنجاب پولیس کے سپوتوںنے فوٹو سیشن کرواکے پوری دنیا کے سامنے انہیں ذلیل کرنا بہادری سمجھا

01:25 pm

اسلام آباد (ایکسکلوژو رپورٹ ) تھانہ کروڑ لیہ کی بہادر پولیس نے ان ملزم عورتوں کیساتھ بھی فوٹو سیشن کروانا ضروری سمجھا ٗ ان خواتین کے جرم کا فیصلہ تو جب ہوگا ٗ عدالت میں ہوگا ٗ لیکن پولیس نے پتہ نہیں کس قاعدے اور قانون کی روشنی میں ان کو یوں دنیا کے سامنے ذلیل کرنے کا دھندہ کیا ہے ً
ہمارے ملک میں اکثر پولیس کی ایسی کارواییاں عدالتوں میں کچھ اور رخ اختیار کرلیتی ہیں مطلب الزام جھوٹا ثابت ہوتا ہے ٗ اگر یہی کچھ کروڑ پولیس کا ان خواتین کیخلاف درج ایف آی آر کا ہوا تو ان کے خاندان بالخصوص ان خواتین کیساتھ کیا گیا یہ تضیحیک آمیز سلوک کا کون جواب دے گا ً میرا خیال ہے وزیراعلی عثمان بزدار لیہ کے تھانہ کروڑ کی اس کاروای خاص طور پر پولیس کی طرف سے فوٹوسیشن کا نوٹس لیں ً پولیس کے اس فوٹو سیشن میں لیڈی پولیس اہلکار کہیں نظر نہیں آرہی ہے ٗ اس کا مطلب اس پولیس کاروای میں لیڈی اہلکار ساتھ لینے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی گی ہے۔ پولیس کروڑ نے ایک مخبر کی اطلاع پر یہ کاروای ڈالی ہے اور ان کیخلاف 371اے ت پ ٗ 371بی ت پ کی دفعات لگای ہیں۔ایف آی آر میں بتایا گیا ہے کہ ان کیخلاف کاروای مخبر جس کا نام نہیں بتایا گیا ہے ٗ اس کی مخبری پر کی گی ہے اور ان خواتین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو برای کے اڈے سے قابو کیا گیا ہے۔ ٗ کروڑ پولیس کا نامعلوم مخبر اتنا کاریگر تھا کہ اس کو دیوار کے اندر سے پتہ چل گیا کہ اندرگھر میں برای ہورہی ہے اور یوں شیر جوانوں نے پوری مہارت سے کاروی ڈالی ہے اور پھر دیگر ملزموں کو اپنے پیچھے کھڑے کرنے کے علاوہ خواتین کو بھی کھڑا کرنا ضروری سمجھا گیا اور پھر سینے تان کر فوٹو سیشن کرایا گیا ٗ میڈیکل رپورٹ سمیت ابھی تک اور کوی لیگل کاروای کی رپورٹ پولیس سامنے نہیں لای ہے ٗ سواے اس کے کہ ایف آی آر میں بدنام زمانہ لفظوں سمیت دیگر اپنی کامیابیوں کے تذکرہ کیا ہے ٗ ڈی پی او لیہ عثمان باجوہ بھی مناسب سمجھیں بلکہ سمجھیں تو اس مشکوک کاروای کا فوری تحقیقات کا حکم دیں اور خاص طور خواتین کو تھانہ کروڑ کی بجاے لیہ کے کسی اور تھانہ میں منتقل کروایں اور وویمن پولیس کی تحویل میں دیں ٗ