11:39 am
’’یا اللہ میری توبہ ، بد بختی کی انتہا ہو گئی ‘‘

’’یا اللہ میری توبہ ، بد بختی کی انتہا ہو گئی ‘‘

11:39 am


اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  بچوں سے زیادتی کے ملزم سہیل ایاز کے کمپیوٹر سے ایک لاکھ بچوں کی تصاویر برآمد ہوئی ہیں جب کہ ملزم کا ڈی این اے بھی ایک متاثرہ بچے سے میچ کرگیا ہے۔راولپنڈی پولیس نے 12 نومبر کو بچوں سے زیادتی کرنے اور ان کی لائیو ویڈیو چلانے والے عالمی گینگ کے سرغنہ سہیل ایاز کو گرفتار کیا تھا تاہم بعدازاں ملزم کے خیبرپختونخوا حکومت کا ملازم ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔
 
سینئر سپرینٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) راولپنڈی فیصل خان نے سینیٹر روبینہ خالد کی سربراہی میں ہونے والے سینیٹ کی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں عالمی گروہ کے سرغنہ سے متعلق بریفنگ دی۔ایس ایس پی نے بتایا کہ سہیل ایاز کیس میں ڈی این اے رپورٹس آگئی ہیں اور ملزم کے گھر سے بازیاب ہونے والے ایک بچے کا ڈی این اے اس سے میچ کرگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملزم کے کمپیوٹر کا ڈیٹا بھی ریکور کرلیا گیا جس میں سے ایک لاکھ بچوں کی تصاویر ملی ہیں جب کہ ملزم سہیل ایاز اور متاثر ہ بچوں کی ڈرگ رپورٹس بھی مثبت آئی ہیں جب کہ پولی گراف ڈی این اے بلڈ ٹیسٹ بھی میچ کرگیا۔ایس ایس پی راولپنڈی نے دعویٰ کیا کہ اتنے ثبوت ملنے کے بعد ان کا کیس بہت مضبوط ہوگیا ہے۔اس دوران سینیٹ کی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی رکن سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ بروقت اقدامات نہ کرنے کے باعث بچوں سے زیادتی کے کیسز سامنے آرہے ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ایف آئی اے اور دیگر اداروں کو مضبوط کریں۔کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو آگاہی کے لیے موبائل کمپنیوں کو شامل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ دوسری جانب چیئرمین پی ٹی اے نے بھی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چائلڈ پورنوگرافی کی 8 لاکھ ویب سائٹس بلاک کردی ہیں جن میں سے 2300 ویب سائٹس کی معلومات انٹرپول سے لی ہیں۔کمیٹی نے ایف آئی اے کو انٹرپول سے مل کر کام کرنے کی ہدایت کی۔خیال رہے کہ ملزم سہیل نے محکمہ پی اینڈ ڈی کے ساتھ نومبر 2017 میں بطور کنسلٹٹ کنٹریکٹ کیا، سہیل ایاز گورننس اینڈ پالیسی پراجیکٹ میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہا تھا اور اس کی ماہانہ تنخواہ 3 لاکھ 45 ہزار روپے تھی۔