02:10 pm
صوبہ میں گورننس بہتر بنانے کیلئے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مضبوط کیا جائے گا:چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان

صوبہ میں گورننس بہتر بنانے کیلئے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مضبوط کیا جائے گا:چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان

02:10 pm

اسلام آباد (ڈیلی اوصاف )چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ریٹائرڈ) اعظم سلیمان خان نے کہا ہے کہ پبلک سروس ڈلیوری بہتر نہ ہونے کی بنیادی وجہ نظام کی کمزوری ہے،صوبہ میں گورننس بہتر بنانے کیلئے چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو مضبوط کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں سول سیکرٹریٹ میں لاہور اور شیخوپورہ کے سول اور پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے افسران خلوص نیت سے بلا خوف و خطر اپنے فرائض سر انجام دیں، انہیں کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افسران کو بااختیار بنانے کیلئے تقرر تبادلوں پر پابندی ختم کی گئی ہے تاہم اختیارات دینے کیساتھ نا قص کارکردگی پر ان سے باز پرس بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کارکردگی کی ماہانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ کی جائے گی اورغفلت کا مظاہرہ کرنے والا عہدے پر نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سول اور پولیس افسران باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دیں، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز مشترکہ طور پر کھلی کچہریوں کا انعقاد کریں اور ہفتے میں کم از کم دو دن تحصیلوں کے دورے کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ افسران منتخب عوامی نمائندوں سے شائستگی سے پیش آئیں اور عوامی مسائل کے حل کیلئے ان سے فیڈ بیک لیں۔ چیف سیکرٹری نے اضلاع میں صفائی، ٹریفک کے انتظامات اورشجرکاری کے حوالے سے بھی خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ سموگ سے بچاؤ کیلئے فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ نا جائز تجاوزات اور قبضہ ما فیا کے خلاف آپریشن بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے اورمنشیات کی روک تھام بالخصوص تعلیمی اداروں میں اسکی رسد منقطع کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اوپن ڈور پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اوردفاتر کے باہرعام لوگوں سے ملاقات کے اوقات واضح طور پر درج ہونے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں صوبہ بھر میں گراں فروشوں، ذٖخیرہ اندوزوں اور اشیاء میں ملاوٹ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نیلامی کے عمل کی موثر نگرانی کیلئے ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز سبزی منڈیوں کے دورے کریں اوردوکانوں پر نرخناموں کو نمایاں طور پر آویزاں کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع میں سکولوں اور ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے اورانسداد پولیو مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے کہا کہ اضلاع میں سیکیورٹی انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے سرکاری وسائل صرف جرائم کی روک تھام کیلئے استعمال ہونے چاہئیں، سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث مسائل پیدا ہوتے ہیں،پولیس پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیرالتوا مقدمات کی تعداد میں کمی لانا ہوگی۔ کھلی کچہریاں لگا کر شہریوں تک رسائی بہتر بنائی جائے تاکہ انہیں تھانے میں آنے کی کم ضرورت پڑے۔ پولیس افسر جم کر اپنا کام کریں، جو افسر جہاں ہے وہ اپنی صلاحیت کی بنا پر وہاں ہے اور اپنی صلاحیت کی بنیاد پر ہی اس منصب پر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے بعض افسروں کی کارکردگی نظر آنا شروع ہوگئی ہے، چائلڈ پورنوگرافی کی روک تھام پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی گرفتاری سے مکمل گریز کیا جائے،پنجاب پولیس کو دستیاب وسائل کم ہیں لیکن اتنے کم نہیں کہ اسے عذر بنا لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انویسٹی گیشن کا معیار بہتر بنایا جائے، ایس ڈی پی اوز کے دفاتر اس طرح فعال نہیں جس طرح انہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر پولیس افسر روزانہ ڈیڑھ گھنٹہ عوام سے ملنے کے لئے مخصوص رکھیں۔،آسمان سے تاڑے توڑنے کی بات نہیں کررہے بلکہ سروس ڈیلیوری پر زور دے رہے ہیں۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، کمشنر لاہور ڈویژن، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ، سی سی پی او لاہور، آر پی او شیخوپورہ، سی ٹی او لاہور، لاہور اورشیخوپورہ کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز، اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز نے شرکت کی۔