11:21 am
شہباز شریف اور اہلخانہ کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

شہباز شریف اور اہلخانہ کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم

11:21 am


لاہور :احتساب عدالت نے شہباز شریف فیملی کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف فیملی کی جائیدادوں اور کمپنیوں میں شئیرز کو منجمد کرنے کی درخواست کی تھی۔درخواست احتساب عدالت کے جج نے چوہدری امیر محمد خان نے نیب کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔
احتساب عدالت نے شہباز شریف سمیت ان کے اہلخانہ کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔واضح رہے کہ عدالت نے شہباز شریف اور ان کے فیملی ممبران کے اثاثے منجمد کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا ا ۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ آج بدھ کو سنایا گیا۔ نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں شہباز شریف فیملی کی جائیدادوں اور کمپنیوں میں شئیرز کو منجمد کرنے کی درخواستیں دائر کررکھی تھیں،درخواست میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف، ان کی اہلیہ اور بیٹوں کے تمام اثاثے منجمد کئے جائیں،نیب نے جائیداد منجمد کرنے سے متعلق ریکارڈ عدالت میں جمع کرادیا،نیب کے اسپشل پراسیکیوٹر حافظ اسد اعوان نے دلائل مکمل کیے، جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
 
یا د رہے کہ قبل ازیں احتساب عدالت نے شہباز شریف کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی ملکیتی اثاثہ جات منجمند کرنے کا حکم جاری کیا تھا جسے گزشتہ ہفتے عدالت میں چیلنج کیا گیا ۔ العریبیہ شوگر مل کی جانب سے لاہورہائی کورٹ میں دائر درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب اور تفتیشی افسر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا . درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ چیئرمین نیب کو سیکشن 12 کے تحت کو نیم عدالتی اختیار دیا گیا ہے اور قانون کہتا ہے کہ جس کو یہ اختیار دیا جائے وہ اسے آگے منتقل نہیں کر سکتا. عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ کیس میں چیئرمین نیب کے اختیارات ڈی جی نیب نے استعمال کیے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا اور نیب لاہور نے خلاف قانون اقدام اٹھاتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل مل کے اثاثہ جات کو فریز کیا. متن میں درج ہے کہ مذکورہ کمپنی کی شئیر ہولڈر کے علاوہ قانونی طور پر الگ حیثیت ہے، کمپنی کے اثاثہ جات سے شئیر ہولڈر اور ڈائریکٹرز کا کوئی تعلق نہیں ہے‘ اس معاملے میں کمپنی کی ایک الگ قانونی حیثیت ہے اور ملزمان کا اثاثہ جات سے کوئی تعلق نہیں ہے. عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ کمپنی ناں ہی مجرم ہے اور ناں ہی کسی کی رشتہ دار ہے، کمپنیز ایکٹ کی شق 41 بی کے تحت جب تک ایس ای سی پی انکوائری ناں کرلے تب تک ریفرنس فائل نہیں کیا جا سکتا ہے. نیب بیورو کی جانب سے درخواست گزار کی کمپنی پر مانیٹرنگ آفیسر تعینات کیا گیا جو غیر قانونی ہے. درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شہباز شریف، سلمان شہباز سمیت دیگر کیخلاف نیب لاہور میں انکوائری زیر التوا ہے جب کہ اس سے قبل کوئی بھی ریفرنس یا انکوائری التوا میں نہیں ہے. عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین نیب سمیت دیگر کو کمپنی کے معاملات میں دخل اندازی سے روکا جائے اور نیب کا 25 نومبر 2019 کا آڈرغیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے.خیال رہے کہ ڈائریکٹر نیب لاہور نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیسز میں شریف فیملی کی دس انڈسٹریز منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے‘ ذرائع کے مطابق انڈسٹریز میں چنیوٹ انرجی لمیٹڈ، رمضان انرجی، شریف ڈیری اور کرسٹل پلاسٹک انڈسٹری، العریبیہ شوگرمل، شریف ملک پروڈکٹس، شریف فیڈ ملز، رمضان شوگر ملز اور شریف پولٹری شامل ہیں.

تازہ ترین خبریں