11:26 am
بلوچستان میں قطری شاہی خاندان کے 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا

بلوچستان میں قطری شاہی خاندان کے 4 افراد کو گرفتار کر لیا گیا

11:26 am


نوشکی: بلوچستان کے ضلع نوشکی میں تلور کے غیر قانونی شکار کے لیے آنے والے 7 قطری باشندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے باشندوں میں قطر کے شاہی خاندان کے ارکان بھی شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر نوشکی عبدالرزاق ساسولی کے مطابق لیویز اہلکاروں نے قطری باشندوں کو سڑک کے راستے کوئٹہ سے آتے ہوئے نوشکی سے 30 کلومیٹر دور کلنگور چیک پوسٹ پر گرفتار کر کے سرکٹ ہاؤس نوشکی منتقل کر دیا ہے۔
عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گرفتار قطری باشندوں نے انتظامیہ کو چکما دینے کے لیے قومی لباس پہن رکھا تھا۔گرفتار ہونے والوں میں 34سالہ شیخ محمد بن منصور جاسم، 34 سالہ شیخ خالد بن علی، 27 سالہ شیخ عبداللہ بن جاشم اور 29 سالی شیخ احمد بن علی خالد کا تعلق قطر کے الثانی شاہی خاندان سے ہے،جب کہ دیگر افراد میں سلمان سعید،سالم ہضبان اور سعود جابری شامل ہیں۔
 
لیویز کے مطابق سعود جابری سے ایرانی پاسپورٹ بھی ملا ہے۔ گرفتار کیے گئے قطری شہری لائسنس اور این او سی کے بغیر شکار پر آئے تھے۔ گرفتار قطریوں کو گذشتہ روز سرکٹ ہاؤس نوشکی میں منتقل کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بلوچستان حکومت نے نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے صوبے میں 18 علاقے مختص کردیے ہیں اور محکمہ وائلڈ لائف حکام کی جانب سے قطر سمیت مختلف عرب ممالک کے باشندوں کواجازت نامے بھی جاری کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں تلور کے شکار کےلیے علاقے ضلع موسٰی خیل، قلعہ سیف اللہ، جھل مگسی، نوشکی، چاغی، دالبندین، آواران، واشک، پنجگور، سبی،لسبیلہ، کچھی، ڈیرہ بگٹی اور نوکنڈی میں مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان نے 100 تلوروں کے شکار کے لیے ایک لاکھ ڈالر فیس مقررکر رکھی ہے جب کہ صوبائی حکومت نے شکار میں استعمال ہونے والے ایک باز کے لیے ایک ہزار ڈالر فیس رکھی ہے۔ وائلڈ لائف حکام کے مطابق گذشتہ سال تلورکےشکارکےلیے بلوچستان میں 19 علاقے الاٹ کیے گئے تھے۔ گذشتہ سال تلور کے شکارکی فیس کی مد میں 13کروڑ روپے جمع ہوئے تھے، شکار کی مد میں جمع فیس جنگلی حیات کےتحفظ اورفروغ کےلیےاستعمال کی جارہی ہے اور رواں سال شکارکی فیس کی مد میں 35کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی متوقع ہے۔

تازہ ترین خبریں