04:52 pm
ترسیلات زر میں 9.35 فیصد اضافہایک ارب 81 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئیں

ترسیلات زر میں 9.35 فیصد اضافہایک ارب 81 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئیں

04:52 pm

کراچی( آن لائن )اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترسیلات زر نومبر کے دوران 9.35 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 81 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہوگئیں جو مالی سال 2019 کے اسی مہینے میں ایک ارب 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں. ماہانہ بنیاد پر غیر ملکی آمدنی میں 9.05 فیصد یعنی 18 کروڑ 10 ہزار ڈالر کمی واقع ہوئی
جو اس سال اکتوبر کے مقابلے میں 2 ارب ڈالر تھیاسی طرح رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران غیر ملکی آمدنی 9 ارب 29 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی وجہ سے ترسیلات زر میں 0.18 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں یہ 9 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی سعودی عرب جوغیر ملکی آمدنی کا سب سے بڑا ذریع ہے اس میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی.جولائی تا نومبر کے دوران ترسیلات زر 0.36 فیصد کم ہوکر 2 ارب 14 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ہوگئیں جبکہ مالی 2019 کے پانچ ماہ میں 2 ارب 15 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی اس دوران امریکا اور برطانیہ سے ترسیلات زر میں مالی سال 2020 کے پانچ ماہ میں بالترتیب 5.25 فیصد اور 3.58 فیصد سے 33.07 فیصد اور 18.05 فیصد اضافہ رہا. مالی سال 2019 میں جولائی سے نومبر میں امریکا سے آمدنی ایک ارب 53 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 1 ارب 45 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی اسی طرح برطانیہ سے ایک ارب 42 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ترسیلات زر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے میں 1 ارب 37 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تھیں.علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات سے ترسیلات زر دوسرے نمبر پر آئیں جس میں 3.7 فیصد یعنی ایک ارب 92 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، مالی سال 19-2018 کے پانچ مہینوں میں 1 ارب 99 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے کم ہوا جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 13 فیصد اضافے ہوا تھا نومبر کے اعدادوشمار میں سرفہرست 4 ممالک سے مایوس کن اعداد و شمار بشمول سالانہ اور ماہانہ دونوں میں کمی کے دیکھنے میں آئی.اکتوبر میں سعودی عرب سے ترسیلات زر46 کروڑ 81 لاکھ 80 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 40 کروڑ 78 لاکھ 80 ہزار رہی اسی طرح امریکا سے 29 کروڑ 86 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 32 کروڑ 23 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہی علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات سے 39 کروڑ 89 لاکھ 60 ہزار ڈالر کے مقابلے میں 38 کروڑ 37 لاکھ ڈالر رہی جبکہ برطانیہ سے 32 کروڑ 86 لاکھ 90 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 28 کروڑ 55 لاکھ 60 ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی.خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک کی طرف سے معمولی اضافہ دیکھا گیا کیونکہ مالی سال جولائی تا نومبر کے دوران غیر ملکی آمدنی میں 0.28 فیصد اضافہ یعنی 88 کروڑ 34 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی گزشتہ سال کے اسی مہینوں میں 88 کروڑ 13 لاکھ 40 ہزار ڈالر تھی.اسی طرح ملائیشیا سے آنے والی آمدنی میں معمولی 0.96 فیصد ہوا جو 65 کروڑ 80 لاکھ 40 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 66 کروڑ 40 لاکھ 30 ہزار ریکارڈ کیا گیا انہی اعداد و شمار میں مالی سال 18-2017 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 64 فیصد کی زبردست نمو ہوئی تھی.