01:39 pm
’’عراق سمیت پوری دنیا میں مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ‘‘

’’عراق سمیت پوری دنیا میں مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ‘‘

01:39 pm


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )’’عراق سمیت پوری دنیا میں مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ‘‘ہمارے پاس ایٹمی طاقت ہے لہذا۔۔! عمران خان اور مہاتیر محمد کا ایسا فیصلہ کہ امتِ مسلمہ نے نعرہ تکبیر بلند کر دیا، ایسے ہوتے ہی اسلام کے اصل ہیرو ز ۔۔۔سینئیر صحافی صابر شاکر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ملٹری لیڈر شپ کے مابین صلاح مشورے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے اور اس کی روشنی میں اگلا قدم اٹھایا جائے گا،
یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ قانون سازی کے لیے کسی کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔صابر شاکر نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان سعودی عرب جا رہے ہیں جہاں وہ سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے۔اور انہیں آمادہ کریں گے پاکستان، ایران،قطر، ترکی،لائیشیا، انڈونیشیا کو ملا کر ایک جی 7 فورم بنایا جائے،ان ممالک کے پاس ذرائع بھی ہیں،ایٹمی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ لہذا انہیں مل کر ایک فورم پر بیٹھانا چاہئیے۔اس سلسلے میں مہاتیر محمد اور وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں در بدر ہو رہے ہیں،عراق اور دیگر ممالک میں جو مسلمانوں کا حشر ہو رہا ہے وہ سامنے لہذا اس کے سدباب کے لیے مسلم ممالک کے پاس فورم ہونا چاہئیے۔وزیراعظم کا سعودی عرب کا دورہ بہت اہم ہے،سعودی عرب کو آمادہ کرنے کے بعد عمران خان دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔اس تمام صورتحال میں ملٹری لیڈر شپ حکومت کے ساتھ ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کل ہفتہ کو سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ ریاض کو یقین دہانی کروائیں گے کہ دیگر اسلامی ممالک سے اسلام آباد کی مصروفیات کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں۔ عرب ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورہ، ریاض کی جانب سے ملائیشیا میں 18 سے 20 دسمبر تک منعقد ہونے والے کوالالمپور (سمٹ) اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کے فیصلے سے ناخوش ہونے کے اشاروں کے بعد پلان کیا گیا۔ کوالالمپور سمٹ ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی سوچ ہے، اس اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوان، قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی اور ایران کے صدر حسن روحانی بھی شرکت کریں گے۔اس کے علاوہ انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کے اجلاس میں شرکت کے بھی امکانات ہیں تاہم اطلاعات ہیں کہ وہ دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کا کوئی نمائندہ اجلاس میں شرکت کرے گا۔

تازہ ترین خبریں