01:41 pm
آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہسپتال پر حملہ کرنے کی ، آپ لوگوں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا

آپ کی ہمت کیسے ہوئی ہسپتال پر حملہ کرنے کی ، آپ لوگوں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا

01:41 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) پی آئی سی حملے میں گرفتار وکلاء کی رہائی کی 4 درخواستوں پر سماعت ہوئی۔جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔درخواست میں آئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔دوارن سماعت اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ابھی تک 81 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ہم کوئی بھارت سے جنگ لڑنے نہیں آئے۔
جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے برہمی اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہاں،آپ نے اسپتال پر حملہ کیا۔آپ کی اسپتال پر حملہ کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟۔کیا آپ وضاحت دے سکتے ہیں کہ حملہ کیوں کیا گیا؟۔جسٹس انور الحق پنوں نے کہا کہ کیا اس کی بھی توقع ہے کہ کوئی بار کونسل اس پر کوئی کاروائی کرے؟۔ جس پر اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم نے ٹی وہ پروگرامز میں مذمت کی ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپکے پروفیشن میں کالی بھیڑیں ہیں۔آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ ہم کس دکھ میں ہیں۔ہم بہت مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔اگر آپ کہتے ہیں تو ابھی اس کیس کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔دکھ اس بات کا ہے کہ آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ نے کہا کہ جی ہم مذمت کر رہے ہیں، جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ سرعام تسلیم کریں کہ آپ نے لاہور بار میں پلاننگ کی۔ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ نے جواب دیا کہ ہم وکلاء کے خلاف کاروائی کرنے جا رہے ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ہمیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا ایسا جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ ایک ویڈیو بڑی عجیب سی تھی جس میں کہا گیا کہ یہ ڈاکٹر کی موت ہے۔واضح رہے کہ وکلاء نے بڑی تعداد میں پی آئی سی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں مریضوں کو علاج نہ مل سکا اور 5 سے زائد مریض دم توڑ گئے۔