04:04 pm
وفاقی حکومت کسی بھی معاملے پر اتحادی جماعتوں کو اعتمادمیں نہیں لیتے،اختر جان مینگل

وفاقی حکومت کسی بھی معاملے پر اتحادی جماعتوں کو اعتمادمیں نہیں لیتے،اختر جان مینگل

04:04 pm

کوئٹہ(آن لائن )بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کسی بھی معاملے پر اتحادی جماعتوں کو اعتمادمیں نہیں لیتے اگر بلوچستان کے مسائل کو حل کرنا ہے تو غیر جانبدار انتخابات کرانا ہوگا اور جب تک حقیقی نمائندے منتخب نہیں ہونگے بلوچستان کے مسائل حل کرنا بڑا
مشکل کام ہے اگر منتخب نمائندوں کی بجائے سلیکٹڈ کو لائیں گے تو پھر بلوچستان کبھی بھی ترقی نہیں کرے گا ناراضگیاں اور ناانصافیوں کی وجہ سے لوگ جدوجہد کرنے پر مجبور ہوگے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کو مطمئن نہ کیا گیا تو ہم اپنے راستے الگ کرینگے بلوچستان میں ایسی پارٹی کو اقتدار دیا گیا جن کاانتخابا ت سے قبل صوبے کے حوالے سے کوئی کردار نہیں تھا اگر ان لوگوں کو بلوچستان کے عوام پر مسلط کرنا پڑتا ہے تو پھر مسائل حل نہیں ہونگے بلکہ مزید بلوچستان بحرانوں کاشکار ہوگا ان خیالات کااظہارانہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا سرداراختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کسی بھی صورت اصولوں پر سودا بازی نہیں کرینگے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے ا ن کو پورا کرنے کی کوشش کرینگے ناراضگیاں ہمیشہ ناانصافیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں یا وعدہ خلافی کی وجہ سے ہوتی ہیں جب کوئی معاہدہ کرتا ہے اس پر پورا نہیں اترتا تو ناراضگیاں بڑھتی ہیں اور اس سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو چند نکات پر سپورٹ کیا تھا ان نکات میں بلوچستان کے سیاسی ومعاشی نکات شامل تھے ڈیڈھ سال کا عرصہ گزرا ہے مگر ان میں سے اکچر نکات پرعملدرآمد نہیں کیا گیا بجٹ سیشن سے قبل لاپتہ افراد کی معاملے پر عملدرآمد ہوا اور ڈیڈھ سال کے دوران 450لاپتہ افراد واپس اپنے گھروں کوآئیں اور یہ سلسلہ بند ہوگیا تاہم اب ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا آواران سے چار خواتین کو گرفتار کر کے ان پر دہشتگردی کے دفعات لگائیں گئے اوران سے اسلحہ بھی برآمد کیاگیا بلوچستان میں عام مرد بھی اسلحہ نہیں چلاسکتے تو خواتین اسلحہ چلانے کی تصور بھی نہیں کرسکتی انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایوب خان اور مشرف کے دور میں حالات خراب ہوئیں آج ایک بار پھر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کا مستقبل بلوچستان ہے مگر بلوچستان کامستقبل صرف قبرستان اور بے روزگاری ہے اگر یہ بلوچستان کا مستقبل ہے تو پھر پاکستان کامستقبل کیا ہوگا ہم ایسی ترقی اور خوشحالی نہیں چاہتے جس سے ہمیں مسائل ومشکلات کاسامنا ہو بلکہ ہم ترقی چاہتے ہیں ایسی ترقی ہو کہ یہاں کے عوام کے مفاد میں ہو جب گوادر ترقی کرے گا تو بلوچستان کے عوام ترقی کرینگے مگر گوادر کے حوالے سے جو اتھارٹی بنائی گئی ہے حکومت نے نہ منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی 10رکنی کمیٹی بنائی گئی جس میں بلوچستان کے کسی بھی نمائندے کو اعتماد میں نہیں لیاگیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل اس وقت حل ہوسکتے ہیں جب بلوچستان میں صاف وشفاف انتخابات ہوں اور مداخلت بند ہو جب حقیقی نمائندے منتخب ہونگے تو پھر بلوچستان کے مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں اگر منتخب نمائندوں کی بجائے سلیکٹڈ لوگوں کو لایاجاتا ہے تو پھر یہی حال ہوگا انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت جب انتخابات میں حصہ لیتا ہے تو کوشش ہوگی کہ عوام کے ساتھ جو وعدے کریں ان پر پورا اترنے کی کوشش کریں اور ہر جماعت اس نیت سے حکومت کا ساتھ دیتے ہیں تاکہ ان کے مسائل حل ہو اور ہم نے بھی موجودہ حکومت کے ساتھ اس لئے ساتھ دیا کہ بلوچستان کے جملہ مسائل حل ہونگے اگر ہم مطمئن نہ ہوئیں تو ہم اپنافیصلہ کرینگے ۔

تازہ ترین خبریں