07:42 am
تجارت کے نام پر منی لانڈرنگ کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے، رضاباقر

تجارت کے نام پر منی لانڈرنگ کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے، رضاباقر

07:42 am


کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ تجارت کے نام پر کی جانیوالی منی لانڈنگ اب مشکل ہے ،کڑی نگرانی بھی کی جارہی ہے،ہمیں بحیثیت قوم سخت فیصلے اور اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا،ہمارا ملک دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور ملک کو نقصان پہنچانے والوں کی مالی معاونت اب کسی طور قابل قبول نہیں،دہشتگردوں کی مالی معاونت ختم کرنے کا سب سے زیادہ فائدہ ہمیں ہوگا، ایکسچینج ریٹ میں ہم بہتری کی طرف گامزن ہیں اور جیسے جیسے ہمارے حالات بہترہوں گے ہم اپنی شرائط کو نرم کریں گے۔
 
دوسری فنانشل کرائم سمٹ سے خطاب کے دوران رضا باقر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک مالیاتی شعبے میں اصلاحات کو جاری رکھے ہوئے ہے، ایکس چینج ریٹ میں ہم بہتری کی طرف گامزن ہیں، ایکس چینج ریٹ میں تبدیلی کا فیصلہ درست تھا، شرح مبادلہ کے نئے نظام سے لوگوں میں اعتماد کی فضا بحال ہوئی ہے، شرائط میں نرمی بہتر صورت حال سے مشروط ہے،غیر منظم سرگرمیوں کو ختم کرکے دستاویزی سرگرمیوں کو فروغ دیا جارہا ہے، معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں روکنے والے عناصر کی سوچ بدل رہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ شہریوں نے فارن کرنسی اکاؤنٹ کو سیونگ اکاؤنٹ میں تبدیل کیا، اس سے معیشت کو فائدہ ہوا، زرمبادلہ پر دباؤ کی وجہ سے خزانہ خالی ہورہا تھا تاہم آج کے حالات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہیں، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے، لوگ اب بچت کی جانب راغب ہورہے ہیں۔رضا باقر نے کہا کہ معاشی اصلاحات میں منی لانڈرنگ روکنا اہم ترین مقصد ہے، مالیاتی جرائم اسٹیٹ بینک کے لئے انتہائی اہم مسئلہ ہے، ہمارا ملک دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں، اس کے خاتمے سے سب سے زیادہ فائدہ ہمیں ہوگا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کیا ، ایف اے ٹی ایف کی 27 شرائط پر کام جاری ہے، ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لئے قوانین بنادیئے گئے ہیں، بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کی کاوشوں کو سراہ رہے ہیں۔