09:15 am
سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ، منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ، مولانا فضل الرحمان کی پیشگوئی پر بھی شاہ محمود قریشی کا ردعمل

سوئٹزرلینڈ سے معاہدہ، منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ، مولانا فضل الرحمان کی پیشگوئی پر بھی شاہ محمود قریشی کا ردعمل

09:15 am

ملتان (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ مثبت قدم ہوگا جس کے تحت منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا، پاکستان میں احتساب کا عمل بہتر ہوگا اور ملک میں کرپشن ختم ہوگی،'مولانا فضل الرحمن کی پیشگوئی سے متفق نہیں،نیا افغان امن عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار اور اس موقف کو تسلیم کرچکی ہے افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں، پاکستان ابتدا ہی سے افغانستان میں مکمل امن خواہش مند رہا اور ہمیشہ تجویز دی کہ سیاسی مفاہمت سے افغان مسئلہ حل
 
کیا جاسکتا ہے،امریکا اور طالبان سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد انٹرا افغان مذاکرات ضروری ہیں۔ جمعہ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ سے معلومات کے تبادلے کا معاہدہ مثبت اقدام ہوگا جس کے تحت منی لانڈرنگ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدے سے قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کی واپسی میں معاونت ملے گی، پاکستان میں احتساب کا عمل بہتر ہوگا اور ملک میں کرپشن ختم ہوگی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا افغان امن عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار اور اس موقف کو تسلیم کرچکی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ابتدا ہی سے افغانستان میں مکمل امن خواہش مند رہا اور ہمیشہ تجویز دی کہ سیاسی مفاہمت سے افغان مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ترکی میں امریکی نائب سیکریٹری سے ملاقات ہوئی اور ایلس ویلز نے پاک افغان تجارتی حجم بڑھانے پر زور دیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے ایلس ویلز سے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں ایپکس کا اجلاس متوقع ہے تجارت اور اقتصادیات رابطہ کاری کا ایک ورکنگ گروپ ہے ایسے ایجنڈے میں لے کرآئیں تاکہ اس پر بات چیت شروع ہو سکے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایلس ویلز نے افغانستان میں حالیہ صدراتی انتخاب سے متعلق بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان صدارتی انتخاب میں کوئی مداخلت نہیں کی بلکہ ہر ممکن سہولت پہنچائی۔شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ افغان حکام کی درخواست پر طورخم پر کارگو کی نقل و حرکت کو بہتر اور آسان بنانے کے لیے بارڈر 24 گھنٹے کھلے ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکا اور طالبان سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد انٹرا افغان مذاکرات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابل کی طرف سے بعض مسائل پر سخت موقف آتا ہے اور ہم بھی ترکی بہ ترکی جواب دے سکتے ہیں لیکن سازگار ماحول قائم رکھنے کے لیے جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاہور میں امراض قلب ہسپتال (پی آئی سی) پر وکلا کے حملے سے ہر پاکستانی کو صدمہ ہوا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں وکلا اور ڈاکٹرز پڑھے لکھے طبقے میں شامل ہوتے ہیں اگر غلط فہمی ہوگئی تو اس کا قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ دونوں طبقات کی کشیدگی سے سائلین اور مریض متاثر ہوں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں طرف ذمہ دار افراد موجود ہیں جو فریقین کے مابین معاملہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کسی میں رکاوٹ نہیں ڈالی، انہوں نے قانونی اداروں اور انتظامیہ پر کوئی پابندی نہیں لگائی، تمام ادارے میرٹ پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ماضی میں بھی متعدد پیشگوئی کرچکے ہیں جو حقائق سے دور ثابت ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن جو کہنا چاہیں کہیں لیکن میں بصد احترام اختلاف رائے کرسکتا ہوں اور ماضی میں بھی ان کی پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امید ہے کہ اب بھی ان کے اندازے درست ثابت نہیں ہوں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ا سلاموفوبیا کے ذریعے مسلمانوں پر ضرب لگائی گئی اور اب بھارت نے شہریت ترمیمی بل پاس کر کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی حق تلفی ہے اور پاکستان شہریت ترمیمی قانون کا بل مسترد کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے بھارت میں متنازع بل پر احتجاجاً اپنا دورہ منسوخ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسی حکمت عملی پر کارفرما ہے کہ خطے سمیت مسلم امہ کے مابین دوطرفہ تعلقات قائم ہوں اور مسائل کی نشاندہی کے بعد اس کے سدبات ہوسکے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران، سعودی عرب، افغانستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مثبت کردار رہا ہے۔