01:39 pm
وکلاء نے کالج کی طالبات کو بھی نہ چھوڑا، طالبات کی بس کے شیشے پر ہاتھ مارتے رہے

وکلاء نے کالج کی طالبات کو بھی نہ چھوڑا، طالبات کی بس کے شیشے پر ہاتھ مارتے رہے

01:39 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وکیلوں نے کالج کی طالبات کو بھی نہ چھوڑا۔وکیلوں کے کالج طالبات کی بس پر دھاوے کی ویڈیو سامنے آ گئی۔تفصیلات کے مطابق رواں ہفتے 11 دسمبر کو وکلاء نے پی آئی سی پر حملہ کرتے ہوئے ظلم کی انتہا کر دی تھی۔وکیل راہگیروں کو بھی تنگ کرتے رہے۔
وکلیوں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی بس کو بھی بیچ سڑک پر زبردستی روک لیا تھا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وکلاء نے ونڈ اسکرین پر ڈنڈے برسائے اور شیشے پر ہاتھ مارتے رہے۔وکلاء نے بس میں گھس کر ڈرائیور سے گالم گلوچ کی اور طالبات کو یرغمال بنالیا جب کہ طالبات کو ڈراتے اور دھمکاتے بھی رہے۔تاہم ڈرائیور کی بار بار التجا پر بس کو آگے جانے دیا گیا۔خیال رہے کہ پی آئی سی میں وکلاء گردی کے باعث مریضوں پر قیامت خیز لمحات گزرے۔مریض اسپتال میں تڑپتے رہے لیکن کوئی علاج کرنے والا ڈاکٹر نہ تھا۔اُس وقت تو ڈاکٹرز اور نرسز کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔بیڈ پر ٹرپتے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی بے بسی کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو اور تصاویر نے سب کے دل دہلا دئیے تھے۔اس حوالے سے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں دیکھا جا سکتا تھا وکلاء باہر سے پتھراؤ کررہے ہیں۔ڈاکٹر ان کو ایمرجنسی سے آئی سی یو شفٹ کررہے مگر آئی سی یوپر بھی حملہ ہوتا ہے اور یہی مریض جس پر رات سے ڈاکٹر کھڑے ہوکر اس کی زندگی بچا رہے تھے اس کو ادویات اور ڈاکٹر سے محروم کردیا جاتا ہے اور لواحقین چھاتی پر دباؤ یعنی سی پی آر کرکے دل کی دھڑکن کو رواں کرنے کی کوشش میں لگے لیکن کوئی فائدہ نہ ہو سکا۔گذشتہ روز وکلاء نے ایک 22 سالہ لڑکی کا آکسیجن ماسک بھی اتار دیا تھا جو بعد میں دم توڑ گئی۔ایک نوجوان لڑکے کا اس حوالے سے ویڈیو میں بتانا ہے کہ کیسے وکلاء گردی کی وجہ سے ان کی والدہ جاں بحق ہو گئیں۔ جب کہ وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے وکلاء نے حاملہ ڈاکٹر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، حاملہ ڈاکٹرپرجس طرح تشدد کیا گیا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، ہسپتال میں جو تباہی مچائی گئی، ویڈیوزموجود ہیں۔

تازہ ترین خبریں