03:44 pm
سعودی ولی عہد نے 2107قیدیوں کی رہائی کاوعدہ کیامگرصرف89کو معافی مل سکی

سعودی ولی عہد نے 2107قیدیوں کی رہائی کاوعدہ کیامگرصرف89کو معافی مل سکی

03:44 pm

لاہور (نیوز ڈیسک )جسٹس پراجیکٹ پاکستانی نامی تنظیم نے لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب سے صرف 89 قید پاکستانی واپس پہنچے ہیں۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کیس کی سماعت کے دوران تنظیم کی سربراہ بیرسٹر سارہ بلال نے عدالت کو بتایا کہ سعودی ولی عہد نے دورہ پاکستان کے دوران 2107 قیدی واپس کرنے کا وعدہ کیا تھا
مگر صرف 89کو ہی شاہی معافی دی گئی۔عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر رہا ہونے والے پاکستانیوں کی تفصیلات پیش کرے۔خیال رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی جیلوں میں قید 2017 پاکستانیوں کو رہاکرنے کا حکم دیا تھا. سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر سابق وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا ، سعودی ولی عہد نے وزیراعظم کی درخواست کے بعد فوری طور پر سعودی جیلوں میں قید 2 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا .وزیر اعظم نے شہزادہ محمد بن سلمان سے سعودی عرب میں معمولی جرائم میں قید تین ہزار پاکستانیوں کی رہائی کی درخواست کی تھی.عمران خان نے اپنی سرزمین پرموجود پچیس لاکھ پاکستانیوں کو اپنا ہی سمجھنے کی درخواست کی تھی. وزیراعظم کا کہنا تھاکہ سیکورٹی مسائل نہ ہوتے تو ہزاروں پاکستانی آپ کااستقبال کرتے، سعودی عرب پاکستانی حجاج کوپاکستان میں امیگریشن کی سہولت دے، 25 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں. جس کے جواب میں شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان کوہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان، آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر سمجھیں، پاکستان کونانہیں کہہ سکتے، ہم سے جو کچھ ہوسکتا ہے کریں گے. شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ پاکستان ہمارا دوست اور بھائی ہے، پاکستان کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے کو مزید آگے بڑھائیں گے، پاکستان میں اس طرح کی قیادت کا انتظار تھا تاکہ ہم پارٹنر بنیں اور بہت سے کام مل کر کر سکیں.