07:30 am
سانحہ آرمی پبلک سکول کے پانچ برس‘150شہداءکی قربانیوں کوخراج تحسین

سانحہ آرمی پبلک سکول کے پانچ برس‘150شہداءکی قربانیوں کوخراج تحسین

07:30 am


اسلام آباد: سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کی 5 ویں برسی آج منائی جارہی ہے16دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے میں طلباء، اساتذہ اور عملے کے ارکان سمیت 150 افراد شہید ہوئے تھے. 2014 میں دہشت گردوں کی علم کے چراغ بجھانے کی کوشش ناکام ہوئی اور ڈیڑھ سو کے قریب طلبا اور اساتذہ نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے قوم کو متحد کیا .
 
ننھے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہیڈکوارٹرز کے باہر تقریب کا انعقاد کیا گیا شرکاءنے معصوم شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا شرکاءکا کہنا تھا کہ آج کا دن دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف ہر قسم کی قربانی کے عہد کی تجدید کا دن ہے. پاکستان جنیوا ایسوسی ایشن اور پاک سوئس فرینڈ شپ کے زیر انتظام تقریب میں خواتین اور بچوں نے بھی بھرپور شرکت کی‘آرمی پبلک اسکول پشاور کے ننھے طلبہ اور دیگر شہداءکیلئے فاتحہ خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا شرکاءنے شہداءکی یاد میں شمعیں روشن کیں. تقریب میں موجود شرکا نے بزدل دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیساتھ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے ہر قسم کی قربانی کا عزم بھی دہرایا . سفاک حملہ آوروں نے سکول پرنسپل طاہرہ قاضی سمیت 150 کے قریب طلبہ اور اساتذہ کو شہید کیا تھا‘اس سانحے نے پوری قوم کو دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے متحد کیا اور سیکورٹی اداروں نے کامیاب کارروائیاں کرکے وطن کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی. پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر 2014 وہ بدقسمت دن تھاجس نے ہر محب وطن پاکستانی کو دلگیر و اشکبار کیا، یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناﺅں اور دلفریب ارمانوں کے ساتھ طلوع ہوا، مگر غروب 132 معصوم و بے قصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا. صبح دس سے ساڑھے دس بجے کے درمیان7 دہشت گرد اسکول کے قریب پہنچے اور اپنی گاڑی کو نذر آتش کیا اس کے بعد سیڑھی لگا کر اسکول کے عقبی حصہ میں داخل ہوئے اور معصوم طالب علموں اور بےگناہ اساتذہ پر اندھادھند فائرنگ کی. سفاک دہشت گرد ایف سی کی وردیاں پہن کر اسکول میں داخل ہوئے، انسانیت سے سارے ناطے توڑ کر درندگی کو گلے لگانے والوں نے اسکول کے مرکزی ہال اور کلاس رومز میں گھس کر ان کلیوں کو بے دردی سے مسل ڈالا جو ابھی کِھل بھی نہ پائی تھیں‘واقعے میں ا سکول پرنسپل طاہرہ قاضی بھی دیگر کئی اساتذہ کے ساتھ شہید ہوئیں اور ہمیشہ کیلئے امر ہوگئی حملے میں 2 دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا. اے پی ایس پر لگے زخم نے حکومت وقت کو نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے اور کاﺅنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو از سر نو فعال کرنے جیسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا. انہی اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا، بلاشبہ اے پی ایس کے 132 بچوں سمیت 150 فرزندان وطن نے اپنے لہو سے وہ شمع روشن کی جس کی لو آج بھی تازہ و غیر متزلزل ہے.

تازہ ترین خبریں