01:35 pm
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع : سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع : سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

01:35 pm

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا، فیصلہ 43 صفحات پر مشتمل ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق تفصیلی فیصلہ 43 صفحات پر مشتمل ہے جسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی اضافی نوٹ دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آنے والے وقت کے لیے معاملہ پارلیمان کے سپرد کر رہے ہیں،
پارلیمان کو سپرد کرنے کا مقصد ہے کہ مستقبل میں غلطیاں نہ ہوں، پارلیمان آرمی چیف کے عہدے کی مدت ملازمت کو یقینی بنائے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دوران سماعت 26 نومبر2019 کو حکومت نے راتوں رات ایکسٹینشن کا لفظ شامل کیا، قانون میں جنرل کی مدت ملازمت، ریٹائرمنٹ کی عمر نہ ہونے پر طریقہ کار کا فائدہ نہ تھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت پر حکومت نے ریگولیشن255 کے تحت 3 سال تک محدود کیا، پھر آرٹیکل 243(4) کے تحت دوبارہ تین سال کے لیے تعیناتی کی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے 6 ماہ میں قانون سازی کی یقین دہانی کرائی، اس بات کو ٹھیک سمجھتے ہیں کہ آرمی چیف کو فی الحال 6 ماہ کی توسیع دی جائے، نئی قانون سازی مدت ملازمت میں توسیع اور دیگر معاملات کا تعین کرے گی۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین میں آرمی چیف کے تقرر کا طریقہ درج ہے، مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تقررکا کوئی تذکرہ نہیں ہے، آرمی ایکٹ میں دیگر افسران کی ریٹائرمنٹ کی مخصوص حالات میں معطلی کا قانون ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون موجود نہیں ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع محدود مدت کے لیے دی گئی۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے فیصلے میں کہا گیا کہ اگر قانون نہ بن سکا تو 6 ماہ میں جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائرڈ ہوجائیں گے، مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے بے ضابطہ نہیں چھوڑیں گے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 6 ماہ میں فیصلہ نہ ہوسکا تو صدر پاکستان نیا آرمی چیف مقرر کریں گے، آرمی ایکٹ میں موجود سقم آرمی ایکٹ فوج کے لوازمات کو پورا نہیں کرتا، صدر کو تعیناتی آرٹیکل 243 کی شق 4 کے تحت کرنی ہوتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی عمر موجود نہیں ہے، روایت رہی کہ 3 سال میں جنرل ریٹائر ہو جاتا ہے، روایت سے آرمی چیف کے عہدے پرغیر یقینی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری، ریٹائرمنٹ اور توسیع کی تاریخ موجود ہے، سماعت کے پہلے دن درخواست گزار عدالت میں پیش نہیں ہوا، پہلی بار یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں آیا، ہمارے سامنے مقدمہ تھا کیا مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ 3 سال کی توسیع کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، قانون وآئین میں مدت ملازمت میں توسیع کی گنجائش موجود نہیں ہے، وزیراعظم نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع دی۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم کو ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار حاصل نہیں ہے، ادارہ جاتی پریکٹس قانون کا موثر متبادل نہیں ہوسکتی، پہلے مرحلے میں آرمی چیف معاملے کو قانون سازی سے منضبط کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ صدر کی جانب سے وزارت دفاع کی سمری بھی بے نتیجہ دکھائی دیتی ہے، وفاقی کابینہ کی منظوری بے معنی اور بے نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ قانون بنانا پارلیمنٹ،عملدرآمد انتظامیہ اور تشریح عدلیہ کا کام ہے، آرمی چیف کی توسیع سےمتعلق قانون خاموش ہے۔