03:43 pm
”پی آئی سی کی حفاظت کی ذمہ داری شہباز شریف کی تھی“صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی انوکھی منطق نے سب کو چکرا کر رکھ دیا

”پی آئی سی کی حفاظت کی ذمہ داری شہباز شریف کی تھی“صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کی انوکھی منطق نے سب کو چکرا کر رکھ دیا

03:43 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اکثر ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جن کی بناء پر وہ نہ صرف خود بلکہ اُن کی برسراقتدار جماعت اور پنجاب حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ ماضی میں بھی ہندو کمیونٹی کے بارے میں منفی بیان دینے پر اُنہیں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔
بالآخر کئی ماہ کے انتظار کے بعد اُنہیں دوبارہ صوبائی وزیر اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ تاہم ایک بار پھر وہ اس وقت تنقید کی زد میں آئے جب انہوں نے پی آئی سی حملے اور وہاں اپنے دورے کے دورا ن اپنی مار پیٹ کا ذمہ دار مسلم لیگ ن کو قرار دے دیا۔ اب ایک بار پھر انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں پی آئی سی حملے کی ذمہ داری سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر ڈال دی ہے۔ ٹی وی پروگرام کے دوران اینکر نے جب سوال کیا کہ کیا پچھلے ہفتے پی آئی سی پر جو حملہ ہوا، اس کا ذمہ دار کون تھا۔ تو صوبائی وزیر نے کہا کہ اس اسپتال کا دفاع شہباز شریف کا کام تھا۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا، جناب والا بالکل۔ جنہوں نے چالیس سال اس مُلک کی لُٹیا ڈبوئی ہے۔ دس سال ینگ ڈاکٹرز یہاں پر خجل ہوتے رہے ہیں، اُن کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔ کے پی کے اندر جب ہماری حکومت آئی تو ایک سال کے اندر ڈاکٹرز کے مسئلے حل کر دیئے گئے۔ اس دوران اینکر نے دوبارہ اُن سے سوال کیا کہ اُس دِن کا ذمہ دار کون تھا۔ تو وہ اس سوال کا جواب دینے کی بجائے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ فیاض الحسن چوہان نے اینکر کے سوال کا دوبارہ جواب دینے کی بجائے کہا کہ سوسائٹی میں جو طبقات کی تقسیم ہوئی ہے، اس کے ذمہ دار شہباز شریف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ہیں۔ جنہوں نے ادارے ٹھیک نہیں کیے۔وکلاء کمیونٹی میں بگاڑ کے ذمہ دار بھی یہی لوگ ہیں۔ اینکر کے سوال دُہرانے پر بھی وہ اپنی ہی بات کہتے چلے گئے اور اینکر سے کہا کہ آپ عدالت نہ لگائیں۔ میں ٹاک شو میں بیٹھا ہوں۔ میری بات سُنیں۔ لوگوں کو سمجھ آ رہا ہے جو بات میں سمجھا رہا ہوں۔ چالیس سال اداروں کو تباہ کرنے کے بعد، ڈیپارٹمنٹس کو تباہ کرنے کے بعد، کمیونٹیز کو تباہ کرنے کے بعد آپ یہ کہتے ہیں کہ ماضی کی بات نہ کریں۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے اینکر کے سوال کا کوئی متعلقہ جواب نہ دِیا۔