04:22 pm
میڈیا کو دھمکی دینے والے وکیل عمیر بلوچ کے اپنے ہی سگے بھائی نے انہیں بڑا جھٹکا دیدیا ، کیا کام کر ڈالا

میڈیا کو دھمکی دینے والے وکیل عمیر بلوچ کے اپنے ہی سگے بھائی نے انہیں بڑا جھٹکا دیدیا ، کیا کام کر ڈالا

04:22 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )میڈیا کو دھمکی دینے والے وکیل عمیر بلوچ کے اپنے ہی سگے بھائی نے انہیں بڑا جھٹکا دیدیا ، کیا کام کر ڈالا ۔۔۔۔ سانحہ پی آئی سی کے بعد مُلک بھر کے عوام نے اس واقعے کی جی بھر کر مذمت کی تاہم مُلک کی مختلف بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے اس معاملے پر بے حِسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے
ایک بار بھی اس واقعے کے حوالے سے مذمتی بیان جاری نہ کیا، بلکہ اس کے برعکس پی آئی سی پر دھاوا بولنے والے پُرتشدد وکلاء کی حمایت کرتے رہے اور ان کے حق میں عدالتوں کے بائیکاٹ اور ہڑتالوں کی کال بھی دی۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری عمیر بلوچ نے بھی عدالتوں کے بائیکاٹ کی دھمکی دی، ساتھ میں انہوں نے میڈیا کو بھی سبق سکھانے کا متنازعہ بیان دے ڈالا۔ عمیر بلوچ کو عدالتی کارروائی میں دخل دینے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے اُن کا بار کونسل کا لائسنس بھی معطل کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں ایڈووکیٹ عمیر بلوچ کو بھی مدعو کیا گیا، جہاں پر اینکر نے انکشاف کیا کہ سیکرٹری اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے اپنے وکیل بھائی نے بھی اُن کی بات نہ مانی۔ اس طرح عدالتوں اور میڈیا کو بائیکاٹ کی دھمکی دینے والے وکیل عمیر بلوچ کا اپنا بھائی بھی اُن کے موقف کا حامی نہ نکلا۔ اینکر نے بتایا کہ جب انہوں نے اسلام آباد بار کی جانب سے ہڑتال کی کال دی تو اُن کے اپنے بھائی نے بھی اُن کی بات نہ مانی اوراسی روز سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کے سلسلے میں پیش ہوئے ۔وکیل رہنما عمیر بلوچ نے اس واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی سی پر حملہ کرنے والے زیادہ تر نوجوان اِنٹرنی تھے۔ میں ہڑتال کے ہمیشہ خلاف ہوں۔ اس واقعہ میں جس نے ایکشن لیا ، اس کی مذمت کرتا ہوں۔ میں ذاتی طور پر ہڑتال کی کال نہیں دے سکتا۔ مجھے وکلاء سے ووٹ لینے ہوتے ہیں۔اس سانحہ کا بڑا دُکھ ہے۔ بار اور بنچ کی برابر کی عزت ہوتی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پی آئی سی کے واقعے میں وکلاء کو بے دردی سے جانوروں کی طرح مارا گیا۔ دو وکلاء کو اُن کی والدہ کے سامنے 40، 50 ڈاکٹروں کی جانب سے مارا جانا بھی قابلِ مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھون صاحب اور اعظم نذیر تارڑ خودپی آئی سی پھول لے کر گئے۔ عمیر بلوچ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے بھی پوری تیاری کر رکھی تھی، ہسپتال کی چھت میں پتھر اور اینٹیں بھی موجود تھیں جو ہم پر برسائی گئیں۔