03:45 pm
1ارب 83 کروڑ رو پے کس کی جیب میں گئے، 48000 میٹرک  ٹن گندم کیسے برآمد کی گئی،وزیر اعظم ایک اور اسکینڈل کی زَد میں

1ارب 83 کروڑ رو پے کس کی جیب میں گئے، 48000 میٹرک ٹن گندم کیسے برآمد کی گئی،وزیر اعظم ایک اور اسکینڈل کی زَد میں

03:45 pm

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اورقومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے گندم، آٹے کے اسکینڈل کا ذمہ دار عمران نیازی کو قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے گزرگئے وزیراعظم کوئی حکمت عملی پیش نہیں کرسکے، آٹے گندم کے اربوں کے اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔انہوں نے جاری کردہ اپنے بیان میں گندم اور آٹے کے اربوں روپے کے سکینڈل کا ذمہ دار عمران نیازی اور کابینہ کو قرار دے دیا ہے۔
شہباز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قلت اور پیدا ہونے والے بحران کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ گندم، آٹے اور اب چینی کی قیمت میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں۔ چوبیس گھنٹے سے زائد ہوگیا وزیراعظم اب تک کوئی حکمت عملی پیش نہیں کرسکے۔قوم کو نالائق حکومت کی نااہلی، کرپشن اور تباہی کے ایجنڈے سے نجات دلانے کیلئے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی قیادت کو اپوزیشن سے مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کرتا ہوں۔ اجلاس میں عوام دشمن ایجنڈے پر کاربند ٹولے سے ملک وقوم کو آزادی دلانے کی حکمت عملی پر غورکیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر محب وطن پاکستانی کو پاکستان کی فکر ہے۔نالائق ٹولے سے جس قدر جلد نجات ہوگی۔ پاکستان کے قومی اورعوامی مفادات کے لئے اچھا ہے۔ تکبر، ضد اور حماقتوں نے ملک کے ہر شعبہ کو تباہ کر دیا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر پارٹی کے قائدین کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ تمام سیاسی قائدین اور جماعتوں کے پارلیمانی سربراہان سے رابطہ کرکے ٹھوس حکمت عملی وضع کریں ہم عوام کو نالائق ٹولے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ گندم، آٹے اور اب چینی کی قیمت میں اضافے کومسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی پابندی کے باوجود25 جولائی سے اکتوبر 2019ء کو 48000 میٹرک ٹن گندم کیسے برآمد کی گئی؟ ایک ارب 83 کروڑ روپے کس کی جیب میں گئے؟ وزیر فوڈ سکیورٹی کا دعویٰ ہے کہ 25 جولائی کے بعد ایک دانہ بھی ملک سے باہر نہیں گیا تو پھر جنات گندم باہر لے گئے؟ گندم اور اس پرمال کس کس نے کھایا؟ ایک ایک پائی کا قوم کو حساب دینا ہوگا ، آج ایک زرعی ملک کو گندم درآمد کرنا پڑرہی ہے، اس سے زیادہ نالائقی، نااہلی اور شرم کی اور کیا بات ہوگی؟ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ ستمبر 2018ء سے لے کر اکتوبر2019ء تک پاکستان نے 6 لاکھ 93 ہزار میٹرک ٹن گندم برآمد کی۔گندم کس قیمت پر پہلے ملک سے باہر بھیجی گئی؟ اور اب کس قیمت پر ملک میں درآمد کی جائے گی؟ اس کا بھی حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس ، روزگار چھیننے کے بعد اب قوم سے ایک وقت کی روٹی بھی چھینی جارہی ہے۔ مزدور سے روزگار تو پہلے ہی چھن چکا ہے، اب اس کے بچوں کا نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے یہ ظلم کی حکومت ہے، جو مزید نہیں چل سکتی نالائق حکومت جاری رہی تو خدانخواستہ پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہو جائے گا۔

تازہ ترین خبریں