12:10 pm
صدرمملکت کا یہ اختیار غیر اسلامی ہے،صدر پاکستان کے اہم ترین اختیار کو چیلنج کردیاگیا

صدرمملکت کا یہ اختیار غیر اسلامی ہے،صدر پاکستان کے اہم ترین اختیار کو چیلنج کردیاگیا

12:10 pm

کراچی(نیوز ڈیسک)صدر مملکت کی جانب سے سزائے موت کے مجرم کو معافی دینے کے اختیارات کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیاگیا ۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر پاکستان کو سزائے موت کے مجرم کو بھی معاف کرنے کا اختیار ہے،آئین پاکستان کے تحت کوئی بھی قانون خلاف اسلام نہیں ہو سکتا،اسلام واضح کہتا ہے کہ قتل کا بدلہ یا معافی کا اختیار صرف مقتول کے اہل خانہ کو ہو،اسلامی قانون کے ہوتے ہوئے
صدر مملکت کا یہ اختیار غیر اسلامی ہے،صدر مملکت کے سزائے موت کے مجرم کو معاف کرنے کے اختیار کو غیر قانونی قرار دیا جائے،درخواست میں وفاقی سیکرٹری قانون، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے ،سیکرٹری پارلیمانی افیئرز ودیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ سال بھی صدرِ مملکت سے سزائے موت کی معافی، معطلی یا کمی اختیار واپس لیے جانے کی آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی ۔درخواست میں وفاق،وزارت قانون اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو فریق بنا گیا تھا ۔درخواست ایڈوکیٹ محمود اختر نقوی نے دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 45 قرآن سنت سے متصادم ہے لہذا صدر مملکت سے سزائے موت کی معافی،معطلی،یا کمی کا اختیار فوری طور پر واپس لیا جائے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ آرٹیکل 227 کے تحت صدر سزائے موت کا ختم نہیں کر سکتا۔سزائے موت کی معافی،معطلی یا کمی کا اختیار صرف مقتول کے ورثا کے پاس ہوتا ہے اس لیے صدر کا سزا ختم یا معاف کرنا غیر آئینی و غیر شرعی ہے۔یہ درخواست تب دائر کی گئی تھی جب خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سُنائی تھی۔

تازہ ترین خبریں