11:24 am
پاکستان میں کرپشن کے اضافے سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ جھوٹی نکلی

پاکستان میں کرپشن کے اضافے سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ جھوٹی نکلی

11:24 am

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی پاکستان سے متعلق رپورٹ کی حقیقت تو کچھ اور ہی نکلی، صحافی صابر شاکر کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ 2019 کی بجائے 2015 سے 2017 تک کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی، تحریک انصاف کے وزیروں نے رپورٹ کی تفصیلات پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی صابر شاکر نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی
پاکستان سے متعلق رپورٹ کی تفصیلات جاننے کی کسی نے کوشش ہی نہیں کی۔صابر شاکر کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ان کے مطابق پاکستان کی کارکردگی جانچنے کیلئے سال 2015 سے 2017 تک کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، اور پھر اسی بنیاد پر رپورٹ مرتب کی گئی۔ صابر شاکر کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ دراصل مسلم لیگ ن کی حکومت کے دور کی کارکردگی کے حوالے سے ہے، لیکن تحریک انصاف کے وزراء نے رپورٹ کا جائزہ لینے سے قبل ہی اس رپورٹ پر اعتراضات کر کے الٹا ن لیگ کو ہی فائدہ پہنچا دیا ہے۔دوسری جانب سربراہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل عادل گیلانی کی جانب سے پاکستان میں کرپشن کے اضافے کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ پر ردعمل اور وضاحت دی گئی ہے:عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل میں پاکستان کی رینکنگ کم ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک پوائنٹ کرپشن انڈیکس اسکور کم ہونے کا مطلب ملک میں کرپشن میں اضافہ ہونا نہیں ہے۔ سربراہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق کرپشن میں اضافہ تب تصور کیا جاتا ہے کہ جب رینکنگ میں 4 فیصد سے زائد کی کمی ہو۔ اس لیے ابھی اگر پاکستان کا اسکور 32 کی بجائے 31 بھی ہو جاتا تو اس کا مطلب یہ نہ ہوتا کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کا اسکور 31 سے 33 کے درمیان رہنے کا مطلب ہے کہ ملک میں کرپشن کے حوالے سے پہلے والی صورتحال برقرار ہے، نہ بہتری آئی ہے نہ ہی صورتحال ابتر ہوئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں کرپشن کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسی کسی رپورٹ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہمیں علم ہے کہ یہ سب ہمارے خلاف پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روزٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے بار ے میں بتایا گیا تھا کہ اس حکومت کی کرپشن گزشتہ حکومت سے زیادہ ہے۔اس رپورٹ کے بعد اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ شہباز شریف کی جانب سے "چور مچائے شور" کا نعرہ بھی لگایا گیا ہے۔ اسی موضوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی جانب سے اس رپورٹ کو متنازع قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ایک پروپیگینڈا ہے جو کہ حکومت کے خلاف کیا جا رہا ہے لیکن ہم اس سے کسی صورت پریشان نہیں ہیں۔عوام کو اعتماد دلواتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عوام کو گھبرانا نہیں چاہیئے، انہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ یہ ان لوگوں کی سازش ہے جن کو ہم نے کرپشن کے الزام میں سیاست سے مستر د کیا ہے۔اب وہ بیرون ملک بیٹھ کر ہمارے خلاف ایجنڈا کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ عمران خان کی معاون خصوصی کی جانب سے اس رپورٹ کو متنازع قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ جان بوجھ کر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر منفی انداز میں پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ میڈیا کی ممتاز شخصیات یہ پروپیگنڈہ کررہی ہیں کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے گورننس کے معاملات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کو بے نقاب کردیا ہے۔ غور کرنے کی پہلی بات یہ ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ایک خیالی انڈیکس ہے اور اس کا دائرہ کار اس قدر تنگ ہے کہ اس کی رپورٹس کو اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو کوئی بھی ذی شعور اس کی بنائی رپورٹس پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں لائے گا ۔ دوسری بات یہ کہ یہ ادارہ مواصلات کے ماہر ین سے سوالات پوچھ کر سروے کرتا ہے اور وہ ماہرین حکومت کے حق میں بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے خلاف بھی ۔ جیسا کہ معروف سینئر صحافی انصار عباسی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2020میں جاری ہونےوالی رپورٹ سے پہلے غالباً 2019کے اختتام میں ایک انکشاف کیا تھا کہ 2019 میں کرپشن 2018 سے زیادہ ہے جس میں انہوںنے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کو کرپشن کے حوالے سے زیاد ہ تنزلی دے سکتی ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ جاری ہونےسے قبل انہیں یہ سب کیسے پتا تھا ؟ یہ وہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں ۔