11:32 am
وزیراعظم عمران خان کو سوشل میڈیا اداروں کی کی تنظیم’’ایشیا انٹرنیٹ کولیشن‘‘ کا خط، سوشل میڈیا قواعد پر خبردارکردیا

وزیراعظم عمران خان کو سوشل میڈیا اداروں کی کی تنظیم’’ایشیا انٹرنیٹ کولیشن‘‘ کا خط، سوشل میڈیا قواعد پر خبردارکردیا

11:32 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایشیا انٹرنیٹ کولیشن (اے آئی سی) نے وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے حکومت کے نئے قواعد سے پاکستان میں ڈیجیٹل کمپنیوں کو کام کرنا ‘انتہائی مشکل ہوجائے گا’۔اے آئی سی کی جانب سے 15 فروری کو لکھے گئے خط کی نقول وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھاٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔وزیراعظم کو اے آئی سی نے یہ خط سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت کے نئے قواعد کے جواب میں لکھا گیا ہے جس کے مطابق کسی قسم کی دستاویز یا معلومات کو جاری کرتے وقت متعلقہ تحقیقاتی ادارے
کو دکھائی جائیں گی اور ان میں شرائط پر عمل کرنے میں ناکامی کی صورت میں 50 کروڑ تک جرمانہ کیا جائے گا۔اے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘یہ قواعد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بری طرح اپاہج کردیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اے آئی سی کے اراکین اس بات کے معترف ہیں کہ پاکستان میں صلاحیت ہے لیکن اچانک ان قواعد کے اعلان سے حکومت پاکستان کے ان دعووں کو جھٹلا دیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہوا ہے’۔حکومتی قوانین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت بنائے گئے قواعد سے درحقیقت اے آئی سی اراکین کو پاکستان میں صارفین اور کاروبار کے لیے اپنی خدمات پہنچانے کے لیے انتہائی مشکل ہوگا’۔اے آئی سی اراکین میں نمایاں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں شامل ہیں جن میں فیس بک، ٹویٹر، گوگل، ایمیزون، ایپل، بکنگ ڈاٹ کام، ایکسپیڈیا گروپ، گریب، لنکڈ ان، لائن ریکوٹین اور یاہو بھی شامل ہے۔گروپ کی جانب سے نشان دہی کی گئی کہ کسی اور ملک میں اس طرح کے ‘یک طرفہ قوانین’ کا اعلان نہیں کیا گیا اور پاکستان غیر ضروری طور پر پاکستانی صارفین اور انٹرنیٹ اکانومی کے بے پناہ مواقع کے حامل کاروبار کو غیر ضروری طور پر نظرانداز کرکے عالمی طور پر اس میدان سے منہا ہونے کا خطرہ مول رہا ہے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یا ان کا نقطہ نظر جانے بغیر قوانین کی منظوری دی ہے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے کاروبار کے منصوبے پر نظر ثانی کا باعث بن گیا ہے۔