01:55 pm
عمران خان نعیم الحق کے جنازے میں جانا چاہتے تھے مگر انہیں  کس نے روک دیا تھا ؟جانیں

عمران خان نعیم الحق کے جنازے میں جانا چاہتے تھے مگر انہیں کس نے روک دیا تھا ؟جانیں

01:55 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) معروف صحافی منصور آفاق نے اپنے حالیہ کالم میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق کی موت سے قبل ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے متعلق کئی دعوے کیے ہیں۔اور اس متعلق وزیراعظم سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔منصور آفاق مزید کہتے ہیں
کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو اس بات کا بہت دکھ ہے کہ عمران خان نعیم الحق کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے اور عمران خان نعیم الحق کے جنازے پر کراچی جانا چاہتے تھے مگر انہیں کہا گیا کہ سیکیورٹی کے مسائل ہیں لہذا آپ کراچی نہیں جاسکتے۔ مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ عمران خان نے یہ کیوں نہیں کہا کہ سیکیورٹی فراہم کرنے والوں کا کام ہے وہ سکیورٹی فراہم کریں میں نے ہر حال میں جانا ہے۔ اگر سیکیورٹی کا بہت مسئلہ تھا تو نعیم الحق کا جنازہ گورنر ہاؤس کے لان میں بھی پڑھایا جا سکتا تھا۔اگر عمران خان کے لیے سکیورٹی کا مسئلہ تھا تو باقی کابینہ کو کیا ہوا تھا وہ جنازے پر کیوں نہیں گئے۔ جنازہ میں صرف کراچی میں موجود وزیر ہی شریک ہوئے۔اسلام آباد سے صرف مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری جنازہ میں شریک ہوئے۔منصور آفاق مزید لکھتے ہیں کہ وزیر اور مشیروں کی فہرست میں فردوس عاشق اعوان سے زیادہ کوئی مصروف نہیں جس انداز میں انھوں نے وزارتِ اطلاعات و نشریات کو چلایا ہے اس کی ایک دنیا معترف ہے۔ اپنی تمام تر مصروفیات کو منسوخ کرکے وہ کراچی پہنچ گئیں مگر وہ سارے وزیر جو سارا دن نعیم الحق کی خوش آمدیں کرتے تھے وہ نہیں گئے،اب ان کے پاس جانے کے لئے وقت نہیں تھا۔مجھے یقین ہے اگر عمران خان جنازے پرکراچی گئے ہوتے تو انہیں دکھانے کے لئے ساری کابینہ وہاں پر پہنچی ہوتی یہاں تک کہ پنجاب سندھ کے وزیر بھی پہنچ گئے ہوتے۔خیال رہے کہ : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق کینسر سے طویل جنگ لڑنے کے بعد 15 جنوری کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔