02:31 pm
ایک ماہ میں مہنگائی مکمل طور پر ختم حکومت نے شاندار اعلان کر دیا

ایک ماہ میں مہنگائی مکمل طور پر ختم حکومت نے شاندار اعلان کر دیا

02:31 pm

عوام دوست فیصلوں کے اثرات سامنے آنے والے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی صوابی ( مانیٹرنگ ڈیسک) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت ایک ماہ کی مدت میں مہنگائی ختم کرنےمیں کامیاب ہوجائے گی۔حکومت کے عوام دوست فیصلوں کے ثمرات سامنے آنے والے ہیں۔
وزیراعظم مافیا اورمنافع خوروں کو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے صوابی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں کوئی اختلاف نہیں البتہ اختلاف رائے ضرور ہے۔ پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی فیصلوں کے ثمرات جلد ملنے والے ہیں۔ جس سے عوام کو ایک ماہ میں مہنگائی سے نجات مل جائے گی۔ وزیراعظم آٹے اور چینی بحران میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔ مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ 3 رکنی کمیٹی کے کنوینر ڈی جی ایف آئی اے ہوں گے۔انٹیلی جنس بیورو کا اعلیٰ افسر بھی کمیٹی میں شامل ہے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ انکوائری کمیٹی کیلئے 12 سے زائد سوالات تیار کیے گئے ہیں۔ کمیٹی چینی کی پیداوار کا جائزہ بھی لے گی کہ آیا چینی کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھی یا زیادہ تھی۔ کمیٹی طلب ورسد کی مقدار میں کمی یا اضافے کے پیش نظر قیمتوں کا تعین کرے گی۔اسی طرح وزیراعظم عمران خان نے پسماندہ علاقوں میں مہنگائی سے تنگ لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے اور روزگار دینے کیلئے احساس پروگرام کے تحت خواتین میں گائے، بھینس اور بکریاں تقسیم کیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل وقت چلا گیا، آئندہ دنوں بڑی خوشخبریاں ملیں گی، ہم غریبوں کیلئے قانون لے کر آرہے ہیں کہ اگر کسی کے پاس وکیل کرنے کیلئے پیسے نہ ہوں تو ان کو وکیل فراہم کریں، ہم نے 60 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیں گے، اب تک 50لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دے رہے ہیں ، ہم نے ہسپتال بنانے کیلئے جو بھی آلات چاہئیں، ہم نے ڈیوٹی فیس ختم کردی ہے، تاکہ پرائیویٹ سیکٹر ہسپتال بنائیں اور غریب وہاں علاج کرواسکیں گے،خواتین کو گھر چلانے کیلئے ایک گائے، ایک بھینس، اور تین بکریاں دیں گے۔ ہر ماہ 80ہزار لوگوں کو بلاسود قرضے دیں گے،50 ہزار اسکالر شپ ہرسال دیں گے،پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنارہے ہیں۔انشاء اللہ ہم یہ سب کچھ بناتے جا رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ کوئی ایسی جگہ نہ ہو، کہ عام آدمی سڑکوں پر سوئے، وہ پاکستان بنے گا کہ کوئی آدمی سڑک پر نہیں سوسکے گا، ہم تعلیم کا نظام ٹھیک کررہے ہیں، یکساں اور مساوی تعلیمی نظام لے کرآرہے ہیں، یہ کام بہت مشکل ہے، اس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔