08:08 am
 ایلیہ کا پہلا انٹرویو سامنے آگیا

ایلیہ کا پہلا انٹرویو سامنے آگیا

08:08 am

اسلام آباد (ویب ڈیسک) کچھ دنوں قبل اسلام آباد پولیس کے ساتھ بحث کرنے والی ایک لڑکی کی ویڈیو خوب وائرل ہوئی تھی جس میں لڑکی یہ کہتی سنائی دے رہی تھی کہ اسلام آباد پولیس اہلکار نے میرے ساتھ پنجابی میں بدتمیزی کی۔۔ لڑکی چلاتی رہی کہتی کہ مسلم ملک میں خاتون کے ساتھ ایسی ہی سلوک کیا جاتا ہے کیا،
جبکہ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا بس موبائل استعمال کرنے سے منع کیا تھا ۔ ناکے پر ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا جس پر ایلیہ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔ لیکن معاملہ حقیقت کے برعکس نکلا۔۔ ایلیہ کا پہلا انٹرویو سامنے آگیا جس میں اس بتایا ہے کہ وہ معمول کےمطابق آفس جارہی تھی کہ اچانک اہلکار نے اسے روکا ایلیہ نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا تو اہلکار نے اسے پنجابی میں کہا کہ سوہنیو ذرا اور تھلے کریو۔۔جس پر ایلیہ گاڑی سے اتری اور اس نے کہا کہ آپ طریقے سے بات کریں۔۔ ایلیہ نے یہ بھی وضاحت کردی کہ اس نے انگریزی کے بجائے پنجابی میں بات کرنے پر غصہ نہیں کیا بلکہ پنجابی میں لڑکی سے بدتمیزی کرنے پر غصہ کیا۔۔ ایلیہ نے بتایا وہ خود بھی پنجابی ہیں تو پنجابی پر کیوں غصہ کرینگی۔ انٹرویو میں ایلیہ نے بتایا کہ وہ کلچرپروگرام پر کام کررہی ہیں۔۔ اور ان کے ڈاکیومنٹس چوری ہوچکے ہیں جس کی اب تک ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی ہے لیکن چھوٹی چھوٹی بات کو اچھال دیا جاتا ہے۔ اپنے انٹرویو میں ایلیہ نے اس بات کی بار بار وضاحت کی کہ انہیں پنجابی سے مسئلہ نہیں تھا۔ اس انٹرویو پر اب پولیس اہلکار کا موقف آنا باقی ہے۔۔