09:49 am
نارووال سپورٹس کمپلیکس میں اربوں کی مبینہ کرپشن،عدالت احسن اقبال پر مہربان،رہا کرنے کا حکم دیدیا

نارووال سپورٹس کمپلیکس میں اربوں کی مبینہ کرپشن،عدالت احسن اقبال پر مہربان،رہا کرنے کا حکم دیدیا

09:49 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ نے نارووال سپورٹس کمپلیکس کیس میں احسن اقبال کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے لیگی رہنما کو ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے استفسار کیا احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیوں کیا گیا ؟ تفتیش مکمل ہے تو احسن اقبال اور شاہد خاقان کو مزید جیل میں کیوں رکھا جائے ؟ احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ ملے، انہیں نمائندگی سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے ؟
جن ووٹرز نے احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ دیا ان کو کس بات کی سزا ہے ؟۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ کسی کو غیر ضروری گرفتار نہیں کر سکتے، غیر ضروری گرفتاری دراصل اختیارات کا غلط استعمال ہے۔واضح رہےکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو گزشتہ سال 23 دسمبر کو نیب نے گرفتار کیا۔جیو نیوز کو ملنے والی نیب دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نارووال اسپورٹس کمپلیکس سٹی منصوبے کی لاگت 34.410 ملین روپے سے بڑھا کر 97.520 ملین کی گئی اور لاگت بڑھانے کی کسی مجاز اتھارٹی یا فورم سے منظوری نہیں لی گئی۔نیب دستاویز کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی سے منصوبے کا دائرہ کار بڑھانے کی منظوری نہ لینا اور ایسا خود کرنا بدنیتی ہے، منصوبہ پلاننگ کمیشن کے ڈیویلپمنٹ مینوئل میں درج قابل عمل اسٹڈی کے بغیر شروع کیا گیا، 50 ملین سے زیادہ کی لاگت کا اسکوپ بڑھانے کیلئے قابل عمل ہونے کی اسٹڈی ضروری ہے۔دستاویزمیں بتایا گیا ہے کہ منصوبہ ریکارڈ کے ساتھ 15 مارچ 2012 کو پنجاب حکومت کے حوالے کیا گیا، پنجاب اسپورٹس بورڈ کو منصوبے کی حوالگی کے باوجود احسن اقبال نے اس پر وفاقی حکومت کے فنڈزخرچ کیے۔رہنما مسلم لیگ ن پر الزام لگایا گیا ہے کہ احسن اقبال نے بدنیتی سے منصوبے کا دائرہ کار بڑھایا جس کا کوئی مطالبہ بھی نہیں کیا گیا تھا۔نیب دستاویز کے مطابق منصوبے کا ازسرنو پی سی ون تیار کیا گیا جس کی لاگت 2498.779 ملین تھی، نئے پی سی ون کی منظوری 17 جولائی 2014 کو سی ڈی ڈبلیو پی نے دی جس کی سربراہی خود احسن اقبال کر رہے تھے۔نیب کے مطابق منصوبے کا ایک اور پی سی ون تیار کرایا گیا جس کی لاگت 2994.329 ملین روپے تھی، سی ڈی ڈبلیو پی نے تین مئی 2017 کو اس کی منظوری دی۔