03:33 pm
’’4ہزار دو ، تمہارا بیٹا تم تک پہنچ جائے گا ‘‘

’’4ہزار دو ، تمہارا بیٹا تم تک پہنچ جائے گا ‘‘

03:33 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) گیارہ سالہ عثمان یکم فروری کو والدہ کو سکول میں پارٹی کا کہہ کر گھر سے گیا اور زندہ واپس نہ آیا ۔تفصیلات کے مطابق تھانہ کورال کی حدود میں 11سالہ بچہ عثمان اپنی والدہ کو اسکول میں پارٹی کا کہہ کر گھر سے گیا اور زندہ واپس نہ آیا، عثمان کے واپس نہ لوٹنے پر گھر میں کہرام مچ گیا۔بچے کے والد یونس خان نے سکول ،بچے کے دوستوں کے گھراور محلےمیں ڈھونڈے کے بعدتھانہ کورال میں بچے کے اغواہ کی درخواست دی
جس پہ ایس ایچ اوتھانہ کورال نے بچے کے اغواہ پر ایف آئی آر نمبر54/20 زیردفعہ 364A ت پ درج کی لیکن پولیس 11سالہ عثمان کو زندہ بازیاب نہ کراسکی اور اغواءکے 02روز بعد بچے کی نعش نالے سے برآمد ہوئی۔ بچے کے والد کے مطابق نعش ملنے سے 2روز قبل حسن نامی شخص کی فون کال آئی جس نے اپنا تعارف تھانہ آئی نائن کا اہلکار بتاکر کروایا اور بچے کے والد سے کہاکہ عثمان میرے پاس ہے اور آپ ٹینشن نہ لیںبچہ آپ کے پاس پہنچ جائے گا ، ساتھ ہی خسن نامی شخص نے یونس خان سے4ہزار روپے بھیجنے کا مطالبہ کیا ۔بچے کے والد یونس خان نے حسن نامی شخص جو کہ خود کو تھانہ آئی نائن کا اہلکار بتارہا تھا کہ مطالبے پر ایزی پیسہ کے ذریعے رقم بھیج دی لیکن اسکے باوجود بچہ گھر نہ پہنچ سکا اور 2دن بعد بچے کی نعش اسلام آباد کے علاقے شریف آباد کے نالے سے برآمد ہوئی۔ نعش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اہل علاقہ نے بچے کی نعش ترامڑی چوک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا اور قاتلوں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ ایس پی اسلام آباد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفتیشی افسر کو معطل کردیا۔ نئے تفتیشی افسر کے بعد فون ریکارڈنگ ہونے کے باجود بھی قاتلوں کو تاحال پکڑا نہ جاسکا۔11سالہ عثمان کے والد یونس خان کا کہنا ہے کہ پولیس کو خسن نامی شخص کی کال ریکارڈنگ فراہم کردی تھی ، پولیس فوری کاروائی کرکے قاتلوں کو گرفتار کرے اور ان کو سرعام پھانسی کی سزا دی جائے۔ کیس کے وکیل چوہدری فیصل ایڈووکیٹ کا اس کیس کے حوالے سے کہنا ہے کہ پولیس 02دنوں میں بھی بچے کو بازیاب نہ کرواسکی جو کہ ہمارے اداروں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔کیس کے وکیل کا کہنا تھا کہ کال ریکارڈنگ ملنے کے باوجود ملزم کے ٹریس نہ ہونے کی وجہ اپنے پیٹی بھائیوں کا ملوث ہونا ہے۔ کیس کے وکیل اور بچے کے والد نےحکام سے نوٹس لیکر فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔