02:00 pm
کروناوائرس :اگر یہ کام ہواتوسنبھال نہیں سکیں گے ،لوگ خود ڈسپلن کامظاہرہ کریں،وزیراعظم نے قوم کوہدایت کردی

کروناوائرس :اگر یہ کام ہواتوسنبھال نہیں سکیں گے ،لوگ خود ڈسپلن کامظاہرہ کریں،وزیراعظم نے قوم کوہدایت کردی

02:00 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم پاکستان عمران خان کاکہناہے کہ کروناوائرس سےلڑنےکےلیے لوگوں کوخود سے ذمہ داری کامظاہرہ کرناہوگا،کوئی یہ نہیںکہہ سکتا کہ دوہفتے بعد کیاصورتحال ہوگی ،اگرپاکستان میں اٹلی کی طرح یکدم کیسز بڑھے کوہمارےلیے سنبھالنامشکل ہوجائےگا،کوشش کرنی ہےکہ کروناکی 
وجہ سے افراتفری نہ پھیلے اوراشیا خوردونوش کی فراہمی یقینی بنی رہے ،ہم ملک کولاک ڈائون نہیں کرسکتے کیونکہ اگرکروناسے بچنے کے لیے تین ہفتے لاک ڈائون کریں گے توخدشہ ہے کہ لوگ بھوک اورافلاس سےمرنے لگیں گے ،تعمیرات کے شعبے کوخصوصی مراعات دینےلگے ہیں تاکہ لوگوں کونوکریاں ملیں ،صنعتوں کےلیے ترقی یافتہ ممالک جیساپیکیج تونہیں دے سکتے لیکن پیکیج ضرور دیں گے جس کااعلان منگل کوکیاجائیگا۔کرونا وائرس کے حوالے سے سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ 2 ہفتے بعد کیا صورتحال ہوگی، چین کے تجربے سے سیکھیں گے، عوام کو بتاتے رہیں گے کہ حکومت اس بارے میں کیا اقدامات اٹھا رہی ہے، اس معاملے پر کوئی چیز بھی سنسر نہیں ہوگی ، کیونکہ اگر ہم کیسز چھپائیں گے تو اس سے ہمارا ہی نقصان ہوگا، عوام کو مسلسل آگاہی فراہم کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ تافتان کے معاملے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے معاملے پر بہت افسوس ہوا۔ جب چین میں کرونا وائرس پھیلا تو 15 جنوری کو فیصلہ کیا کہ اس کے اوپر مسلسل نظر رکھیں گے، ہمیں خوف تھا کہ چین سے پاکستان میں وائرس آئے گا لیکن پاکستان میں چین سے ایک بھی کرونا وائرس کا کیس نہیں آیا ، چینی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، جب قم سے ہمارے زائرین آنا شروع ہوئے تو ہم مسلسل ایران کی حکومت سے رابطے میں رہے، جب پہلا کیس ہوا تو ڈاکٹر ظفر مرزا خود تافتان گئے اور ہمیں حالات کے بارے میں بتایا، اس کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور پاکستان کی فوج کے ساتھ مل کر سہولیات پہنچائیں جو کہ بہت ہی مشکل کام تھا، یہ کہنا کہ اس پر کسی کی غلطی ہے تو یہ بالکل غلط ہے، اس معاملے میں کسی کے اوپر الزام لگانا زیادتی ہوگی۔انہوں نے عالمی برادری سے ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں کرونا وائرس کے کیسز اتنے زیادہ ہوچکے ہیں کہ ان کی اس سے لڑنے کی استعدادِ کار ختم ہوگئی ہے، اس لیے عالمی برادری پر زور دوں گا کہ ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں۔