03:30 pm
پاکستان کے کن کن علاقوں میں کرفیو لگانے پر غور کیا جا رہا ہے؟ جانیں

پاکستان کے کن کن علاقوں میں کرفیو لگانے پر غور کیا جا رہا ہے؟ جانیں

03:30 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے کن کن علاقوں میں کرفیو لگانے پر غور کیا جا رہا ہے؟ ۔۔۔ پاکستان میں بھی اس وقت پوری دنیا کی طرح کورونا وائرس کا خوف پھیلا ہوا ہے جس کے بعد اس وقت ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومتی اقدامات کے بعد بھی ابھی تک ملک بھر میں حالات زیادہ بہتری کی طرف نہیں گئے۔ اسی سلسلے میں بات کرتے ہوئے اپنی یوٹیوب ویڈیو میں تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ بات کرتے ہوئے
ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک پاکستان کے کئی علاقوں میں فوج کے دستے نظر نہیں آرہے تھے، لیکن اب وہ گشت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور لوگوں کو تلقین بھی کر رہے ہیں کہ وہ گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔ صابر شاکر کا کہنا تھا کہ یہ حالا ت اب صرف پاکستان کے بڑوں شہروں تک محدود نہیں ہوں گے، افواج پاکستان اب پاکستان کےہر چھوٹے شہر میں جا کر بھی اپنے فرائض سرانجام دیں گے کیونکہ اب حالات کرفیوکے بغیر بہتری کی طرف نہیں جا سکتے۔ یاد رہے کہ پوری دنیا میں تباہی مچانے والے کورونا وائرس نے اس وقت پاکستان میں اپنی تباہی کا سلسلہ شرو ع کیا ہوا ہے جس کے بعد ابھی تک ملک بھر میں 1600 افراد اس سے متاثر ہو گئے ہیں جبکہ 19افراد اس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔حکومت کی جانب سے پھیلتے ہوئے کورونا وائر س کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔ اسی وجہ سے ملک کے چاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا اور فوج کو طلب کر لیا گیا تھا تا کہ لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روکا جا سکے کیونکہ اس کا یہی حل ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے نہ ملیں۔ دوسری جانب پوری قوم ہمارے ڈاکٹروں، نرسوں اورپیرا میڈیل اسٹاف کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ اس مشکل وقت میں انہو ں نے ہی کام کرنا ہے۔ لیکن اب ڈاکٹروں کےساتھ فوجی مدد لینے کا فیصلہ لیا جانے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے صابرشاکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک پاکستان کے کئی علاقوں میں فوج کے دستے نظر نہیں آرہے تھے، لیکن اب وہ گشت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور لوگوں کو تلقین بھی کر رہے ہیں کہ وہ گھروں میں رہیں اور باہر نکلنے سے گریز کریں۔