07:42 am
پاکستان میں پایا جانا والاکرونا وائرس چین اور دیگر ممالک میں پائے جانے والے وائرس سے کس طرح مختلف ہے

پاکستان میں پایا جانا والاکرونا وائرس چین اور دیگر ممالک میں پائے جانے والے وائرس سے کس طرح مختلف ہے

07:42 am

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان میں پایا جانا والاکرونا وائرس چین اور دیگر ممالک میں پائے جانے والے وائرس سے مختلف نکلا، ڈاکٹر عطا الرحمان کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بیالوجیکل سینٹر کے ڈیپارٹمنٹ سینٹرفار جینومکس ریسرچ میں کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہاں پایا جانے والا کورونا وائرس کورونا کی فیملی کے دو وائرس سے مل کر بنا ہے
۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمان کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشاف کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سائنسدانوں کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں پایا جانے والا کرونا وائرس کی قسم دوسرے ممالک کےکرونا وائرس سے مختلف ہے۔اس حوالے سے کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بیالوجیکل سینٹر کے ڈیپارٹمنٹ سینٹرفار جینومکس ریسرچ میں تحقیق کی گئی۔ڈاکٹر عطا الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پایا جانے والا کرونا وائرس کرونا کی فیملی کے دو وائرس سے مل کر بنا ہےجس کے نتیجے میں پانچ مختلف قسم کے آئسوفارمز بن گئے ہیں اور یہ مزید تقسیم ہوتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کی جا رہی ہے اور جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا پاکستان میں پایا جانے والا وائرس کم یا زیادہ خطرناک ہے۔ دوسری جانب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ریسرچرز کے آئیڈیاز اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ایچ ای سی کے پروگرام میں کورونا پر ریسرچ کی دعوت دے رہے ہیں۔ بہترین آئیڈیاز بھیجنے والوں کوبلایا جائے گا اور کام کرنے کا کہا جائےگا۔ حکومت پاکستان مدد کرے گی کہ آئیڈیا زکومزید بہتر کیا جائے۔ منصوبے پر 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک دیے جائیں گے۔ اس منصوبے میں دلچسپی لینے والے3 اپریل تک اپنی تجاویز ایچ ای سی کوبھیج سکتے ہیں۔