04:53 pm
کورونا متاثرین فون کی گھنٹی رات میں نہ بجائیں،

کورونا متاثرین فون کی گھنٹی رات میں نہ بجائیں،

04:53 pm


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) کورونا وائرس کے باعث ہر شہری پریشان ہے، وزارت صحت کی جانب سے شہریوں کی سہولت کے لئے ہیلپ لائن بنائی گئی لیکن 1166 کا نمبر شہریوں کے کسی کام نہ آیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس دن بدن زور پکڑنے لگا ہے۔کورونا وائرس سے شہریوں کے پریشان ہونے پر حکومتی اقدامات بھی تیز کر دیئے گئے ہیں۔ ملک میں پھیلتے وائرس کے پیش نظر وزارت صحت نے شہریوں کی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن بنائی۔وزارت صحت کے بینر تلے ہیلپ لائن 1166 متعارف کروائی گئی۔پھر اس کو ملک بھر میں فری کر دیا گیا۔
وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ صحت کی معلومات ایک فون کال پر دی جائیں گی۔لیکن وفاقی حکومت شاید فون اٹھانے والے بھرتی کرنا بھول گئی۔بتایا گیا کہ لوگوں کو معلومات کے لئے صبح آٹھ سے رات 12 بجے تک عملہ موجود ہوگا۔ شہریوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ایمرجنسی ہیلپ لائن 24 گھنٹے موجود ہوتی ہے۔پہلی ہیلپ لائن ہے جس میں صرف مخصوص اوقات میں ہی مدد ملتی ہے۔یعنی کے رات کو کال کریں تو ایک قسم کا یہی جواب ہوتا ہے کہ کورونا متاثرین فون کی گھنٹی رات میں نہ بجائیں،رات میں ہم سو رہے ہوتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات کار میں بھی شہریوں کی مدد کے لیے کسی کا ہیلپ لائن پر موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ وزارت برائے قومی صحت و خدمات کی ہیلپ لائن 1166 پر کی جانے والی تمام کالیں مفت کر دی گئی ہی تھیں، پی ٹی اے کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے تمام آپریٹروں کو 1166 پر کالیں چارج نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔