01:52 pm
کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نماز جمعہ روکنے کے معاملے پر تصادم

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نماز جمعہ روکنے کے معاملے پر تصادم

01:52 pm

کر اچی (این این آئی)کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آنے والے عوام اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوگئے۔ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ مسجد کے خطیب سمیت چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔لیاقت آباد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے منع کرنے پر شہریوں نے پولیس کی دوڑیں لگوادیں جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔سندھ حکومت کی جانب سے کراچی سمیت صوبے بھر میں دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک کرفیو جیسا لاک ڈاؤن کیا گیا اور کسی
کو نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی گئی۔لیاقت آباد کے علاقے میں شہریوں کی بڑی تعداد نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے ایک مسجد کا رخ کیا تو پولیس نے انہیں روکا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پابندی کے باوجود جمعہ کا اجتماع کرنے پر مسجد کے امام کو حراست میں لینے کی کوشش کی تو شہری مشتعل ہوگئے اور پولیس و رینجرز پر دھاوا بول دیا۔شہریوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا اور اہلکاروں کو تھپڑ، لاتے اور گھونسے مارے۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو بچاکر علاقے سے نکالا۔پولیس ذرائع کے مطابق شہریوں نے نمازجمعہ کی ادائیگی سے روکنے پر پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت چار اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق تصادم کے بعد شہریوں نے پولیس کو اپنے گھروں میں پناہ دی اور مشتعل عوام سے بچایا۔ پولیس نے امام مسجد رحیم داد سمیت کمیٹی کے دو ارکان کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔مسجد انتظامیہ اور بلوا کرنے والے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ پولیس نے مسجد انتظامیہ کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری بھی لیاقت آباد پہنچ گئی ہے۔