07:00 pm
عطیات نہیں دے سکتے تو پلی بارگین ہی کرلیں

عطیات نہیں دے سکتے تو پلی بارگین ہی کرلیں

07:00 pm

لاہور (نیوز ڈیسک) کورونا نے دنیا بھر میں تباہی مچا کر رکھ دی ہے۔کروڑوں افراد بیروزگار ہوگئے ہیں۔تاہم ایسے میں مختلف ممالک کی امیر ترین شخصیات کھل کر سامنے آئی ہیں اور انہوں نے غریب طبقے کی مدد کے لیے عطیات دیے ہیں۔لیکن بظاہر پاکستان کی امیر ترین شخصیات سمجھی جانے والی ہستیاں ابھی تک عطیات دینے میں کھل کر سامنے نہیں آئیں۔اسی حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے ہوئے سینئر صحافی عارف نظامی کا کہنا ہے کہ جب سے پاکستان بنا ہے پا کستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لوگ روتے ہی رہے ہیں، کبھی کہتے ہیں گیس مفت کی جائے،
کبھی کچھ کہتے ہیں۔آج بھی یہ رو رہے ہیں کہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے ہمیں نقصان ہوا ہے۔یہ وہ ٹیکسٹائل ٹائیکون ہیں جنہوں نے بڑی بڑی بڑی جائیدادیں نے بنا لی ہیں۔اگر انہیں نقصان بھی ہو رہا ہے تو اب تک یہ اربوں روپے کی جائیداد اور بینک بیلنس بنا چکے ہیں۔عطیات بھی مڈل کلاس اور درمیانے لوگوں کی جانب سے دیے جارہے ہیں۔لیکن یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان کا پرافٹ 100 فیصد سے 50 فیصد پر آ جائے تو کہتے ہیں ہمیں تو نقصان ہو رہا ہے۔کچھ لوگوں کے پاس ایسی ایسی گاڑیاں ہیں جو امریکہ میں بھی لوگوں کے پاس نہیں ہیں،ان کی جیبوں میں کینیڈا کے پاسپورٹ رہتے ہیں،یہ یہاں پر پھنسے ہوئے ہیں ورنہ یورپ کے کسی ملک میں زندگی گزار رہے ہوتے۔یہ پاکستان کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔عارف نظامی کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں سیاسی شخصیات کو بھی کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے دینے چاہیے۔اگر عمران خان کہتے ہیں کہ یہ لوگ امیر ہیں تو یہ وہ درست کہتے ہیں، شہباز شریف ایک بہت بڑی اسٹیل مل کے مالک رہے ہیں اور ارب کھر پتی ہیں۔اسی طرح آصف علی زرداری بھی بہت زیادہ امیر ہے۔انہیں اب عطیات کرنے چاہیے۔اگر پلی بارگین کرنی ہے تو اس معاملے پر کرنی چاہئیے۔جب کہ سوشل میڈیا پر بھی صارفین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی امیر ترین شخصیات عطیات دینے میں پیچھے ہیں،یہ ایسا موقع ہے جب پاکستانیوں کو ان کے اربوں روپے میں سے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے لہذا انہیں اپنے ملک کی خاطر عطیات دینے چاہئیے۔