06:03 am
کورونا وائرس، لاک ڈائون سے کاروبار بند،چھوٹے کاروباری طبقے کا وزیراعظم سے بلاسود قرضے فراہم کرنے کا مطالبہ

کورونا وائرس، لاک ڈائون سے کاروبار بند،چھوٹے کاروباری طبقے کا وزیراعظم سے بلاسود قرضے فراہم کرنے کا مطالبہ

06:03 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کوروناوائرس سے لاک ڈائون ، کاروبار ٹھپ ہوگئے، چھوٹے کاروباری طبقے کا حکومت سے بلاسود قرضے فراہم کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق کوروناوائرس سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے کاروبار بند ہوگئے ہیں اور غریب اور کم آمدن والاطبقہ بے روزگار ہوگیا ہے۔حکومت نے تمام ترصورتحال کے پیش
نظر 1200روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت کاروبار بند ہونے سے بے روزگار ہونے والےمزدوروں اور محنت کشوں کیلئے 200 ارب روپے روکھے گئے جس کے تحت ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کی مدد کی جائے گی۔جبکہ وزیراعظم عمران خان نے ایکسپورٹ انڈسٹری کو 100 ارب روپے دینے کا اعلان کر دیا ہے جس کی ادائیگی ایکسپورٹ انڈسٹری کی جانب سے جمع کرائے گئے ایڈوانس ٹیکس ریفنڈ سے کی جائے گی۔ایسے میں چھوٹے کاروباری طبقے کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر پرائیوٹ اسکولز اور ان سے وابستہ دیگر چھوٹے کاروبار ہورہے ہیں، پرائیویٹ اسکول مالکان کا کہنا ہے کہ صرف 20فیصد اکول ہی ایسے ہیں جو شاید بغیر آمدن 2یا 3ماہ گزارلیں لیکن اکثریت ایسے اسکولوں کی ہے جن کی فیسیں 900سے 1500کے درمیان ہیں ایسے اسکول بغیر آمدنی کے کس طرح اپنے ملازمین کو تنخواہیں اداکرینگے ۔دوسری طرف اسکولوں سے وابستہ دیگر کاروبار بھی شدید متاثرہورہے ہیں۔ اسٹیشنری کے کاروبار سے وابستہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم سفید پوش لوگ ہیں ، چھوٹا سا کاروبار کررہے ہیں اگر 1 ماہ کا لاک ڈائون ہوتا ہے تو ہم کسی نہ کسی طرح گزار کر ہی لیتے اور تنخواہیں بھی اپنے ملازمین کو اداکرچکے ہیں لیکن اگر یہ لاک ڈائون مزید چلتا ہے تو ہمارا کیا ہوگا، ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے، حکومت بلاسود قرضے فراہم کرے تاکہ لاک ڈائون کی وجہ سے ہونے والےمالی نقصان کا مداواکرسکیں۔