09:21 am
ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 2880 تک جاپہنچی، 45 جاں بحق

ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 2880 تک جاپہنچی، 45 جاں بحق

09:21 am


 اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ملک بھر میں کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 2880 ہوگئی جبکہ 45 افراد اس موذی مرض سے جاں بحق اور 170 صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی وزارت صحت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے جاری کردی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 172 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 2880 ہوگئی۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک شخص اس وائرس کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 45 ہوگئی جب کہ مجموعی طور پر 170 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 1163، سندھ میں 864، خیبر پختونخوا میں 372 ، بلوچستان میں 185، اسلام آباد 78، آزاد کشمیر 12 اور گلگت بلتستان میں 206 کورونا کے مریض ہیں۔ملک بھر میں اس وقت کورونا کے 41 تصدیق شدہ مریض جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق سندھ، 11 کا پنجاب، 11 کا خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان سے 3 جب کہ بلوچستان کا ایک مریض شامل ہے۔پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی میں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کم ازکم 28دن کے لئے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے جس کے بعد محتاط انداز میں مرحلہ وار پابندیاں نرم کی جانی چاہئیں۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر اُبھری ہوئی پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔