02:35 pm
آن لائن نظام تعلیم ،ایچ ای سی کا طلبا کو سستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کا فیصلہ

آن لائن نظام تعلیم ،ایچ ای سی کا طلبا کو سستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کا فیصلہ

02:35 pm


اسلام آباد(  آن لائن )آن لائن نظام تعلیم ، ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن )نے طلبا کو سستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن ) آن لائن نظام تعلیم کو کامیاب بنانے کیلئے متحرک ہو گیا ہے۔ ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن ) کی جانب سے طلبا کو سستے انٹرنیٹ بنڈلز کی آفر دینے کیلئے ٹیلی کام کمپنیز سے رابطہ کیا گیا ہے۔ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن ) نے کہاہیکہ لاک ڈان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے طلبا کوسستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کیلئے تعلیمی بنڈل فراہم کیا جائے۔ ٹیلی کام کمپنیاں طلبا کی سہولیات کیلئے
دیہی علاقوں میں سروس کو بھی بہتر کرے۔ ایچ ای سی نے تمام یونیورسٹیوں کو آن لائن کلاسز سے متعلق طلبا کے مسائل حل کرنے کی ہدایت بھی دے دی ہے۔ایچ ای سی کی جانب سے جاری ہدایت میں کہا گیا ہے کہ تمام یونیورسٹیاں طالب علموں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے۔واضح رہے ملک بھر میں لاک ڈان کے باعث ملک بھر میں تعلیمی نظام کو آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد ورچوئل یونیورسٹی نے ایک معاہدے کے تحت مختلف 14 سرکاری یونیورسٹیوں کو لرننگ منیجمنٹ سسٹم فراہم کر دیا تھا ۔ جس میں ویڈیو لیکچرز ، اسائمنٹ ، نصاب کی تقسیم سمیت دیگر سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ جو کہ کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں تعلیم میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔استاتذہ کو ایل ایم ایس تک رسائی کیلئے ایپ فراہم کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب ہائیر ایجوکیشن کمشن نے تمام سرکاری و نجی یونیورسٹیوں کو آن لائن ٹیچنگ کی ہدایت دی ہے۔ بعدازاں طلبا کے پاس انٹرنیٹ سہولت نہ ہونے پر آن لائن سسٹم کو کامیاب نہ بنایا جا سکتا ۔ تاہم اب ای یچ ای سی طلبا کو انٹرنیٹ فراہم کرنے کیلئے متحرک ہو گئی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور رہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نوجوان ایک حجام کی دکان پر بیٹھا آن لائن کلاس لے رہا ہے۔قابل غور بات یہ ہے نوجوان کیمرہ آن ہونے سے بے خبر تھا ۔ احد محمود نامی طالب علم کو کیمرہ آن ہونے کا علم اس وقت ہوا جب استاد نے کہا کہ ایک بچہ آن لائن کلاس لیتے بال کٹواتے بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ اسی لمحہ احد محمود نے اپنا کیمرہ بند کرنے کی کوشش کی تاہم بہت دیر ہو چکی تھی۔ یہ تمام مناظر کیمرہ کی آنکھ میں قید ہو چکے تھے