03:15 pm
لاک ڈاون کا لائحہ عمل سندھ حکومت 14 اپریل سے پہلے طے کرے،فردوس شمیم نقوی

لاک ڈاون کا لائحہ عمل سندھ حکومت 14 اپریل سے پہلے طے کرے،فردوس شمیم نقوی

03:15 pm

کراچی (آن لائن) قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ لاک ڈاون کا لائحہ عمل سندھ حکومت 14 اپریل سے پہلے طے کرے۔ کرونا کے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کرتے ہوئے لاک ڈاون میں نرمی کی جائے۔یہ باتیں انہوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرس میں خطاب کے دوران کہیں۔ اس موقع پرمرکزی نائب صدر و پارلیمانی لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ، صدر پی ٹی آئی کراچی خرم شیر زمان،رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی اور سیکریٹری پی ٹی آئی کراچی جمال صدیقی
بھی موجود تھے۔ قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت سے درخواست ہے کہ لاک ڈاون میں نرمی کی جائے۔14 اپریل کے بعد کا لائحہ عمل ابھی طے کیا جائے، بازاروں کے اوقات بڑھائیں جائیں تا کہ بازاروں میں رش کم ہو۔ ایک دن کپڑوں کی دکانیں کھولی جائِیں، اور ایک دن باقی دکانیں۔ سندھ حکومت نے اپنا ایک بھی فرض ادا نہیں کیا، غریبوں سے راشن کا وعدہ ضرور کیا مگر آج تک راشن نہیں دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک عوام دشمن کمپنی بن گئی ہے، ایوریج بلنگ نام پر ہزاروں روپوں کے بل بھیج کر زیادتی کی گئی ہے۔ہماری تجاویز پر سندھ حکومت غور کرے،پیپلز پارٹی نے ہر چیز کو تباہ برباد کردیا ہے۔مراد علی شاہ صاحب پیسے بنانا بند کریں اور عوام کے فائدے کے لیے اقدامات کریں۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں،لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے، لووگوں کے گھروں کے دروازوں پر بیماریاں دستک دے رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کب تک صوبے کو بند رکھے گی،ملکی معیشت چلانے والے شہر کی معیشت کمزور پڑ گئی ہے۔ فیکٹریوں سے ملازمین کو نکالا جارہا ہے، فیکٹریوں کو کرونا کے ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے۔صدر پی ٹی آئی کراچی خرم شیر زمان نے کہا کہ مراد علی شاہ کی لاک ڈاون کے حوالے سے پلاننگ تاحال سمجھ سے بالاتر ہے۔سندھ حکومت اور انکے وزرا کہیں بھی نظر نہیں آتے، ہسپتالوں میں کرونا کے ٹیسٹ کی کٹس نہیں ہیں اور ڈاکٹرز کو پی پی آئی کٹس نہیں دی گئی ہیں، جسکی وجہ سے اسپتالوں میں ڈاکٹر اور عملہ محفوظ نہیں ہے۔ ڈاکٹرز میں کرونا کی تصدیق ہونے ہر بے حد تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 لاکھ راشن کا وعدہ کیا گیا تھا بتایا جائے کہ وہ گیا کہاں؟ سندھ حکومت سندھ کی عوام کے ساتھ ظلم کرنا بند کرِیں،مراد علی شاہ ایک مربوط لاِحہ عمل تشکیل دیں۔اس میں پی ٹی آئی انکی مدد کرنے کو تیار ہے،بعد ازاں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہم نے پہلی میٹنگ میں کہا تھا کہ پہلے لائحہ عمل بنائے اسکے بعد لاک ڈاون کریں۔ مگر سندھ حکومت کی پھرتیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ یکدم تعلیمی ادارے اور ہالز کو بند کردیا گیا، اب راشن کے وقت سندھ حکومت کی پھرتیاں کہاں چلے گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 20 لاکھ راشن کے بیگز کہاں گئے، پیپلزپارٹی ان معاملات میں بھی دو نمبری کررہی ہے، اسمبلی اراکین سمیت تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کرونا کے نام پر لی گئی۔ بتایا جائے کہ وہ فنڈ کہاں گیا؟ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ لوگ قانون ہاتھ میں لیں۔صوبے میں حالات خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں، لوگوں کو کھانا نہیں لا تو لوگ آپکا گریبان پکڑینگے۔اب سندھ کی عوام۔کو ریلیف نہیں دیا گیا تو معافی نہیں ملے گی۔ پریس کانفرنس سے خطاب میں رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی نے کہا کہ دوسرے ممالک میں 13 ہزار سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اسکے باوجود وہاں معمولات زندگی کو جاری رکھا ہواہے۔ہمارا موازنہ دوسرے ممالک سے نہیں ہے، صوبے میں لاک ڈاون میں نرمی کے بجائے مستقل سختی آرہی ہے۔ حکومت ہوشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے لاک ڈاون میں نرمی برتے