04:02 pm
خیبرپختونخواہ پولیس میں اَفسران سے انتقام کی آڑ میں وزیراعلیٰ کو بدنام کیا جانے لگا

خیبرپختونخواہ پولیس میں اَفسران سے انتقام کی آڑ میں وزیراعلیٰ کو بدنام کیا جانے لگا

04:02 pm

اسلام آباد(آن لائن)تحریک انصاف کی حکومت کا واحد نعرہ احتساب ہے مگر یہ احتساب آج کل صرف ضلع سوات پولیس میں نظر آرہا ہے ۔ اِس کی تازہ مثال چھ اَپریل 2020ء کو آئی جی پولیس خیبرپختونخواہ کی خوازہ خیلہ،
اَپر سوات، کبل اور مٹہ سوات کے ایس پی ، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کا شکایت پر تبادلہ ہے۔ اگر یہ تبادلے بدعنوانی کی وجہ سے ہیں تو اُن اَفسرا ن کا کہنا ہے کہ کیا پورے صوبے میں صرف سوات کی پولیس کرپٹ ہے اور وہ بھی مٹہ ، خوازہ خیلہ اور کبل کی پولیس جہاں سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کا تعلق ہے ؟؟ یا اگر جرائم کی روک تھام میں ناکامی اور غفلت کی وجہ ہے تو کیا صرف یہ چند اَفسران نا اہل اور مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہیں؟ یا کسی اور ضلع میں بھی بدعنوانی اور نا اہلی ہو رہی ہے؟؟ بالا اَفسران کے مطابق سب سے ذیادہ جرائم پشاور میں ہوتے ہیں، سب سے ذیادہ کرپشن بھی پشاور میں ہو رہی ہے جبکہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تو کرپشن کے جھنڈے گاڑھے جا چکے ہیں مگر احتساب صرف سوات پولیس کا ہو رہا ہے؟ ؟ اِس احتساب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مقامی اَپوزیشن کا کہنا ہے کہ دراَصل وزیر اعلیٰ اور اس کے کارِندے سوات میں پولیس فورس کے اُوپر اپنا مکمل کنٹرول چاہتے ہیں۔ مقامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سوات کے سیاسی مخالفین کو پولیس سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ اور ایک مخصوص حلقے کے افراد کو دیر اور بونیر کے اضلاع میں کلاس فور اور اسپیشل پولیس فورس میں بھرتی کیا گیا ہے۔سوات ڈویژن میں تعینات رہنے والے بعض اَفسران نے کہا ہے کہ اِس سے قبل بھی کئی ڈی ایس پیز حضرات اور سابق ڈی پی او اشفاق انور کو بھی وزیراعلیٰ کے کہنے پر ہٹایا گیاجس میں بعض ڈی ایس پیز صاحبان نے مقامی طور پر صلح صفائی اور معافی مانگ کر اپنے تبادلے منسوخ کرائے ۔ اس صورتحال سے بعض اعلیٰ ترین اَفسران نے ناجائز فائدہ اُٹھا کر آئی جی پولیس کی لاعلمی اور انتقامی مزاج کے ذریعے کئی مخالف اعلیٰ اَفسران کو چلتا کر دیا۔ دو سینئر پولیس اَفسران کے خلاف نیب میں مقدمات ثابت ہو چکے تھے توصوبہ بدر کرانے کے لیئے وزیراعلیٰ کا نام استعمال کیا گیا حالانکہ وہ اِسی وزیراعلیٰ کے دور میں تعینات ہوئے تھے۔اُن کے علاوہ دو مذید ڈی آئی جیز کو بھی وزیراعلیٰ کے نام پر کھڈے لائن لگایا گیا۔ ڈی آئی جی ڈیرہ اسماعیل خان کو پچھلے دِنوں وزیراعلیٰ کے نام پر ہٹادیا گیا مگر دراصل مسلہ کروناء فنڈ میں حصہ مانگنے کا تھا جس نے پھر اَپروچ کراکر اور میڈیا میں اَصل کہانی لیک کراکر اپنا تبادلہ رُکوادیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ بعض اَفسران نے پشاور پولیس کی کرپشن ، اسمگلنگ میں ملوث ہونے اور جرائم کو چھپانے اور خود اعلیٰ اَفسران کی آئیس کا نشہ کرنے کے بارے میںآئی جی پی خیبر پختونخواہ کو مصدقہ رپورٹس دی تھیں مگر سی سی پی او پشاورنے بروقت بنی گالا سے رابطہ کیا اور اِس طرح وزیر اعلیٰ کا نام استعمال ہونے سے رہ گیا۔ واضع رہے کہ سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر نعیم خان نے بھی جب پورا حصہ نہ دینے پر سابق سی سی پی او کریم خان کو ہٹایا تھاتو اُنہوں نے بھی وزیراعلیٰ کا نام لیا تھا ۔ مگر جب کریم خان وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش ہوا تو پتہ چلا کہ اصل مسلہ وزیراعلیٰ کا نہیں تھا۔ تاہم موجودہ دور میں محسوس ہو رہا ہے کہ یا تو وزیراعلیٰ خود تمام تر ایکشن لے رہا ہے جیسا کہ سوات کے تبادلوں کی آڑ میں وزیراعلیٰ کا نام استعمال کیا جا رہا ہے اور پولیس فورس میں وزیراعلیٰ کے لیئے سخت ناپسندیدگی پیدا کی گئی ہے۔ جس پر وزیراعلیٰ کو نوٹس لینا چاہیئے۔