12:30 pm
چینی بحران رپورٹ کیسے منظر عام پر آئی کہ حکومت اسے اون کرنے پر مجبور ہوگئی، سینئرصحافی کے انکشافات

چینی بحران رپورٹ کیسے منظر عام پر آئی کہ حکومت اسے اون کرنے پر مجبور ہوگئی، سینئرصحافی کے انکشافات

12:30 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگا جاوید چودھری اپنے کالم ’’جیے شوگر مافیا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔کیوں کہ شوگر مافیا نے یہ ہونے نہیں دی‘ آپ پچھلے بیس برسوں کے وزیرصنعت اور زراعت نکال کر دیکھ لیجیے‘ یہ عہدے ہمیشہ جاگیرداروں کو ملتے ہیں اور جاگیر دار کاٹن پر ریسرچ نہیں ہونے دیتے تھے‘ وجہ؟ یہ سمجھتے ہیں کاٹن پر ریسرچ ہو گئی تو کسان گنے کی جگہ کپاس اگائے گا اور اس سے ان کو نقصان ہو گا اور دوسرا ملک 20 برسوں سے شوگر
مافیا کے کنٹرول میں ہے‘ آپ پچھلے بیس برسوں میں ملک کے تمام بڑے لوٹے دیکھ لیں‘ آپ کو شوگر مافیا پارٹیاں بدلتا نظر آئے گا۔یہ لوگ ہر حکومت میں شامل ہو جاتے ہیں اور زراعت اور تجارت کے فیصلے اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں‘ سوال یہ ہے یہ لوگ شوگر انڈسٹری میں کیوں ہیں؟ آپ جان کر حیران ہوں گے یہ دنیا کی واحد انڈسٹری ہے جس کا را مٹیریل (گنا) ادھار ملتا ہے‘ یہ لوگ مل لگانے سے لے کر شوگر سٹور کرنے تک بینک سے ایک دھیلا قرض نہیں لیتے‘ یہ کسان کو نچوڑتے رہتے ہیں‘ اب سوال یہ ہے کسان پھر گنا کیوں اگاتا ہے‘ یہ کوئی اور فصل لگا لے؟ وجہ صاف ظاہر ہے‘گنا ”لیزی مین کراپ“ ہے۔آپ ایک بار بوئیں اور تین سال تک کاٹتے رہیں چناں چہ کسان اپنی سستی کی وجہ سے بلیک میل ہوتا رہتا ہے‘کسان کی مجبوری سے شوگر مافیا بنا‘ یہ سیاسی جماعتوں اور بیورو کریسی میں آیا اور زراعت اور انڈسٹری دونوں کو یرغمال بنا لیا‘ یہ لوگ تمام سیاسی جماعتوں میں ہیں‘ یہ اپنی مرضی کی حکومتیں لے آتے ہیں اور ناپسندیدہ حکومتیں گرا دیتے ہیں‘ عمران خان کی حکومت اس کی تازہ ترین مثال ہے‘ شوگر مافیا نے 2013ء کے بعد عمران خان کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔یہ حکومت آج بھی شوگر مافیا کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے‘ اگر صرف یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں تو وفاق اور پنجاب دونوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو جائے گی۔چوتھی بات‘ یہ لوگ کرتے کیا ہیں؟ یہ کمال کرتے ہیں! یہ پاکستان کے عوام کو لوٹتے ہیں‘ کیسے؟ ہم اس طرف آنے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں پاکستان میں گندم اور چینی دونوں پوری دنیا سے مہنگی ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ 21 کروڑ لوگوں کی روزانہ کی خوراک ہے‘ یہ ملک ان دونوں اجناس کی سب سے بڑی منڈی ہے چناں چہ یہ لوگ اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 50 لاکھ ٹن چینی کی کھپت ہے‘ ہماری پیداوار جس سال زیادہ ہو جائے مالکان حکومت کو مجبور کر کے اس سال چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت لے لیتے ہیں لیکن یہ اس سے پہلے حکومت سے ایکسپورٹ سبسڈی لیتے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ ہماری چینی مہنگی ہوتی ہے‘ یہ عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر پاتی لہٰذا ”ڈیفرنس“ حکومت برداشت کرتی ہے‘ سوال یہ ہے حکومت کیوں برداشت کرتی ہے؟ کیوں کہ یہ لوگ تگڑے ہیں‘ اگلا سوال یہ ہے کیا یہ ایکسپورٹ سے پیسہ کماتے ہیں؟جی نہیں! انہیں ایکسپورٹ میں نقصان ہوتا ہے‘ یہ سبسڈی سے چینی کی کاسٹ نکالتے ہیں اور ایکسپورٹ کے بعد ملک میں مصنوعی قلت پیدا کر کے چینی کی قیمت بڑھا دیتے ہیں اور اس سے اربوں روپے بناتے ہیں‘ 2018ء اور 2019ء میں بھی یہی ہوا تھا‘ ملک میں 52 لاکھ ٹن چینی پیدا ہوئی تھی‘ ہماری ضرورت 50 لاکھ ٹن تھی‘ دو لاکھ ٹن اضافی تھی‘ یہ لوگ حکومت میں بیٹھے تھے لہٰذا دو سیکرٹریوں کے چیخنے کے باوجود وفاقی کابینہ نے 11 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دے دی۔پنجاب نے مالکان کو تین ارب روپے سبسڈی بھی دے دی‘ چینی باہر چلی گئی اور ملک میں قلت پیدا ہو گئی‘ قیمت بڑھی اور یہ 55 روپے سے 80 روپے کلو گرام ہو گئی یوں ان لوگوں نے 87 ارب روپے کما لیے‘ جہانگیر ترین کے پاس مارکیٹ کا 20 فیصد اور خسرو بختیار کے پاس 15 فیصد شیئر ہے لہٰذا 87 ارب کا 35 فیصد ان دونوں کی جیب میں چلا گیا اور باقی حصہ ان کے دوستوں اور دوسرے سیاست دان کی جیب میں جا گرا۔ہم اب آخری بات کی طرف آتے ہیں۔کیا عمران خان چینی مافیا پر ہاتھ ڈال سکیں گے؟ میرا خیال ہے نہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ وزیراعظم نے اگر ہاتھ ڈالا تو یہ حکومت چلی جائے گی‘ حکومت یہ رپورٹ بھی جاری نہیں کرنا چاہتی تھی‘ رپورٹ وزیراعظم آفس میں پڑی تھی‘ وزیراعظم کے ایک مشیر نے یہ کاپی نکال کر محمد مالک اور ارشد شریف کو دے دی‘ رپورٹ میڈیا میں بریک ہو گئی اور یوں حکومت اسے ”اون“ کرنے پر مجبور ہو گئی لہٰذا مجھے محسوس ہوتا ہے یہ ایشو جلد یا بدیر کرونا کی خبروں میں دب جائے گا۔کومت مزید مٹی ڈالنے کے لیے سابق حکومتوں کے قرضوں کا ایشو اٹھا رہی ہے لہٰذا کرونا اور قرضہ کمیشن کی رپورٹ مل کر یہ رپورٹ نگل جائے گی‘ شوگر مافیا کا اپنا خیال ہے کرونا کے مریضوں کی تعداد لاکھ تک پہنچنے کی دیر ہے اور آٹا ہو یا چینی ساری رپورٹیں غائب ہو جائیں گی چناں چہ آپ آج سے کرونا اور قرضہ کمیشن رپورٹ پر توجہ دینا شروع کر دیں‘ آپ کو بہت جلد چینی رپورٹ کی خبر‘ خبر نظر نہیں آئے گی۔ جیے شوگر مافیا۔