04:09 pm
 واپڈا نے مورونج ڈیم پراجیکٹ کیلئے مشاورتی خدمات کا کنٹریکٹ ایوارڈ کردیا

واپڈا نے مورونج ڈیم پراجیکٹ کیلئے مشاورتی خدمات کا کنٹریکٹ ایوارڈ کردیا

04:09 pm


لاہور (آن لائن) جنوبی پنجاب میں پانی کے کمیاب وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے واپڈا نے مورونج ڈیم پراجیکٹ کیلئے مشاورتی خدمات کا کنٹریکٹ 3کمپنیوں پر مشتمل جوائنٹ ونچر کو ایوارڈ کردیا۔ نیسپاک جوائنٹ وینچر کی مرکزی فرم ہے۔ کنٹریکٹ کی مالیت 15 کروڑ 62 لاکھ 26ہزار روپے ہے۔ کنٹریکٹ میں مورونج ڈیم کی فزیبلٹی سٹڈی، تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن، ٹینڈر دستاویزات اور پی سی۔و ن کی تیاری شامل ہے۔ واپڈا ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں واپڈا کے جنرل منیجر (ہائیڈروپلاننگ) محمد امین اور نیسپاک کے جنرل منیجر (واٹر اینڈ ایگریکلچر) جاوید
منیر نے معاہدے پر دستخط کیے۔ مورونج ڈیم پراجیکٹ کاہا نالہ پر تعمیر کیا جائے گا۔ ڈیم سائٹ ماڑی گاؤں سے 15کلومیٹر اور راجن پور سے غربی سمت 116 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ کاہا نالہ راجن پور کے نواح میں کوہ سلیمان کے پہاڑی نالوں (Hill Torrents) میںسے ایک بڑا نالہ ہے جس میں پانی کا سالانہ اوسط بہاؤ ایک لاکھ 83ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ راجن پوراور اس کے ملحقہ علاقوںمیں پانی کے وسائل انتہائی کم ہیں اور وہاں زراعت اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت درپیش رہتی ہے۔ مورونج ڈیم پراجیکٹ کے تین بنیادی مقاصد ہیں ،جن میں زراعت اور پینے کیلئے پانی کی فراہمی، سیلاب سے بچاؤ اور بجلی کی پیداوار شامل ہیں۔ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8لاکھ ایکڑ ٖفٹ ہوگی۔ ہر سال مون سون میں بارشوں کی وجہ سے ملحقہ پہاڑی نالوں میں طغیانی آنے سے ہزاروں ایکڑ اراضی سیلاب سے متاثر ہوتی ہے جس سے زرعی اراضی اور املاک کو نقصان پہنچتا ہے۔ پراجیکٹ سے 12میگا واٹ سستی اور ماحول دوست بجلی بھی پیدا ہوگی۔ مورونج ڈیم جنوبی پنجاب کیلئے اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے، جس سے ان پسماندہ علاقوں میں غربت کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی، معاشی استحکام آئے گا اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔پراجیکٹ کی بدولت ایک لاکھ 20 ہزار ایکڑ بنجر زمین زیرکاشت آئے گی، زیرزمین پانی کی سطح بلند ہوگی اور ماہی گیری کو فروغ ملے گا۔