05:51 pm
تحریک انصاف  غیرملکی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت

تحریک انصاف غیرملکی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت

05:51 pm


  اسلام آؓباد(آن لائن ) الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی غیرملکی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت  سکروٹنی کمیٹی سے واپس لینے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔منگل کے روز چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر درخواست گزار اکبر ایس بابر اور انکے وکیل احمد حسن الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ میرے موکل اکبر ایس بابر تاحال پی ٹی آئی کے ممبر ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کمیٹی سکروٹنی نہیں تحریک انصاف کے غیر ملکی ممنوعہ فنڈز
کی تحقیقات نہیں کرنا چاہتی ہے اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی فنڈنگ کی تحقیقات سکروٹنی کمیٹی کی بجائے الیکشن کمیشن سے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی نے 2015 سے اب تک فارن فنڈنگ کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی بھی 2 سال میں پی ٹی آئی سے ریکارڈ نہیں لے سکی ہے انہوں نے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی 60 سے زائد سماعتوں میں کچھ نہیں کرسکی ہے اور ہمیں آگے بھی توقع نہیں ہے اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی نے جو ریکارڈ مانگا ہم نے فراہم کیا ہے اور آج تک ہماری طرف سے کیس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے اس موقع پر الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا یہ کیس غیر ملکی فنڈنگ کا ہے جس پر درخواست گزار نے وکیل نے کاکہ نہیں یہ غیر ملکی نہیں بلکہ ممنوعہ فنڈنگ کا معاملہ ہے انہوں نے کہاکہ نے کہاکہ غیر ملکی فنڈنگ کی اصطلاح میڈیا کی ہے ہماری نہیں ممنوعہ ذرائع میں ملکی اور غیرملکی دونوں شامل ہو سکتے ہیں الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے خلاف مبینہ ممنوعہ ذرائع سے پارٹی فنڈنگ سے متعلق اکبر ایس بابر کی دیگر درخواستوں پر سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نے سکروٹنی کمیٹی سے چھان بین واپس لینے کی مخالفت کر تے ہوئے کہا کہ سکروٹنی کمیٹی کو اپنا کام کرنے دیا جائے سکروٹنی کمیٹی کیا ٹی او آرز اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کام کررہی ہے کمیشن یہ چیک کرے سکروٹنی کمیٹی پر اس موقع پر اعتراض یا عدم اعتماد درست نہیں اس موقع پر درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہاکہ سکروٹنی کمیٹی ٹی او آرز کے مطابق کام نہیں کررہی،سکروٹنی کمیٹی ہمارے سامنے تحقیقات نہیں کرتی، ہمیں ریکارڈ نہیں دیا جارہا،ہے سکروٹنی کمیٹی تاحال ممنوعہ فنڈنگ کی نشاندہی کا عمل شروع نہیں کرسکی ہے ہمیں سکروٹنی کمیٹی پر مکمل اعتماد ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فنڈنگ پر سکروٹنی کمیٹی سے تاحال کاروائی کی رپورٹ ایک ہفتہ میں طلب کرتے ہوئے کہاکہ چار ہفتوں بعد سکروٹنی کمیٹی کی کاروائی کا دوبارہ جائزہ لیں گے الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے خلاف مبینہ ممنوعہ ذرائع سے پارٹی فنڈنگ سے متعلق اکبر ایس بابر کی اضافی درخواستوں پر سماعت کے موقع پر سکروٹنی کمیٹی کے سربراہ محمد ارشد الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور کہاکہ سکروٹنی کے بارے میں ایک ہفتہ میں سٹیٹس کا بتائیں گے جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ رپورٹ کب تک آئے گی جس پر کمیٹی کے سربراہ نے کہاکہ حتمی رپورٹ کا وقت نہیں بتا سکتا کام چل رہا ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی کراس میچنگ اور کراس ریفرنسنگ پر کام چل رہا ہے ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات کا معاملہ سکروٹنی کمیٹی سنے یا کمیشن الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔