05:58 pm
آٹے کا مصنوعی بحران شروع ہو گیا، شدت آتی جائے گی،شاہد رشید بٹ

آٹے کا مصنوعی بحران شروع ہو گیا، شدت آتی جائے گی،شاہد رشید بٹ

05:58 pm

اسلام آباد(آن لائن) تاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے بڑے خطرات سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ ٹڈی دل نے لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اجاڑنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس سے غذائی قلت کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ ذخیرہ اندوز مافیا نے آٹے کے مصنوعی بحران کے زریعے عوام کو بھوکا مارنے کے منصوبے پر عمل درامد شروع کر دیا ہے۔منافع خوروں کی حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو وقت کے ساتھ اس بحران میںشدت آتی جائے گی جس سے بے چینی عدم استحکام اور خانہ جنگی بھی جنم لے سکتی ہے۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری
ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اگر حقیقی کاروائی کے بجائے تسلی بخش بیانات اور اعلانات جاری رہے تو آڑھتی، زمیندار، ہول سیلر اور فلور ملز مافیاسال رواں کے آخر تک آٹے کو چینی سے مہنگا کر دینگے۔انھوں نے کہا کہ اگر ان مجرموں کے خلاف نتیجہ خیز کاروائی ممکن نہیں تو ریگولیٹری ڈیوٹی میں چھ فیصد کمی کر کے گندم کی فوری درامد شروع کی جائے تاکہ عوام کے ان دشمنوں کا حوصلہ ٹوٹ جائے۔ہر سال جولائی اور اگست کے مہینوں میں بین الاقوامی منڈی میں گندم کی قیمت کمترین سطح پر ہوتی ہے جس سے فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ امسال صرف پنجاب کی گندم کی پیداوار میں سات سے دس لاکھ ٹن کی کمی متوقع ہے جبکہ سندھ میں گزشتہ سال کی طرح کئی لاکھ ٹن گندم غائب بھی ہو سکتی ہے جس سے اثرات سے سارا ملک متاثر ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھی حکومت کو بار بار گندم بحران کے بارے میں بتایا جاتا رہا مگر کسی نے توجہ نہیں دی جس کی سزا غریب عوام کو ملی۔انھوں نے کہا کہ بینکوں کی بڑھتی ہوئی منافع خوری کا نوٹس لیا جائے، پرائیویٹ پاور مافیا کے خلاف کاروائی سست روی کا شکار نہ ہونے دی جائے جبکہ پولٹری مافیا کے پر نکل آئے ہیں جنھیں کاٹنا ضروری ہو گیا ہے۔ملک بھر میں پٹرول کی قلت بھی پیدا کر دی گئی ہے جس کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ شوگر ملز مافیا کے خلاف بھی دعوے تو بہت کئے گئے تھے مگرخاطر خواہ عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔ہر سال چینی کے بحران کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ ملک کی تمام شوگر ملز کو قومی ملکیت میں لے لیا جائے۔