11:04 am
چکوال، 6افرادنے جواں سالہ معذور لڑکی کو کہیں کا نہ چھوڑا ، متاثرہ لڑکی نے اشاروں کی مدد سے ایک ملزم کی شناخت کرلی

چکوال، 6افرادنے جواں سالہ معذور لڑکی کو کہیں کا نہ چھوڑا ، متاثرہ لڑکی نے اشاروں کی مدد سے ایک ملزم کی شناخت کرلی

11:04 am

چکوال، 6افرادنے جواں سالہ معذور لڑکی کو کہیں کا نہ چھوڑا ، متاثرہ لڑکی نے اشاروں کی مدد سے ایک ملزم کی شناخت کرلی
 
x شناخت کی تھی۔ والدہ نے اپنا بیان جمع کرواتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کی معذور بیٹی پہلے گھبراہٹ کا شکار تھی، لیکن بعد میں اس نے اشاروں کی مدد سے اپنی ماں کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا۔ والدہ نے بتایا ہے کہ جو شخص 26 مئی کو ہمارے گھر میں داخل ہوا تھا، اسی نے میری بیٹی سے بدفعلی کی ہے۔ اس بات کی تصدیق متاثرہ لڑکی نے خود کی ہے کیونکہ 26 مئی کی رات اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ متاثرہ لڑکی نے اشاروں کی مدد سے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ اس کے ساتھ بدفعلی کرنے والے 6 افراد ہیں۔ تا ہم وہ صرف ایک اس شخص کی شناخت کر سکی ہے جس نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ خیال رہے کہ پاکستان میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقع نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان میں اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں بچوں اور معذور خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اسی حوالے سے کابینہ نے ایک زینب الرٹ بل بھی منظور کیا تھا جس کا مقصد ایسے واقعات کی جلد تحقیقات کروانا تھا۔ تاہم اس قانون کے تحت ملزمان کو سزائیں دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لیکن ان تمام اقدامات کے بعد زیادتی کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اب چکوال میں ایک اور افسوس ناک واقع پیش آگیا ہے جس میں 6 افراد نے نوعمر معذور لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔