11:11 am
وائرس کی بڑی لہر کا خدشہ: پاکستان کے بڑے شہروں میں ایکشن شروع ہوگیا،

وائرس کی بڑی لہر کا خدشہ: پاکستان کے بڑے شہروں میں ایکشن شروع ہوگیا،

11:11 am


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )وائرس کی بڑی لہر کا خدشہ: پاکستان کے بڑے شہروں میں ایکشن شروع ہوگیا،بڑی مارکیٹں بند‘پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی کمی، ملک بھر میں بڑی مارکٹوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن۔۔۔ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے بچاؤکیلئے جاری کردہ ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ کرنے پر آج پنجاب کی کئی بڑی مارکیٹیں بند کردی جائیں گی. ذرائع کے مطابق لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ایکشن چند گھنٹوں میں شروع ہو جائےگا، 
پنجاب کی بڑی مارکیٹیں بندکرنےکا فیصلہ این سی او سی کے فیصلوں کے تناظر میں کیا گیا‘ادھر وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہبازگل نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر ملک بھر میں آج کئی بڑی مارکیٹیں بند کر دی جائیں گی. شہباز گل نے بتایا کہ یہ فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے کیا ہے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والی مارکیٹوں کا بند کرنے کا فیصلہ عوام کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے صنعتی علاقے، مارکیٹیں اور ٹرانسپورٹ کو ایس اوپیز کا پابند بنایا جائے گا اور اس ذمہ داری کیلئے صوبوں میں خصوصی ٹیمیں شکیل دے دی گئی ہیں ٹیمیں ایس اوپیز پرعملدرآمد کویقینی بنائیں گی اور خلاف ورزی پرجرمانے عائد کیے جائیں گے. واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا تھا کہ عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو جانی نقصان میں اضافہ اور متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے لہذا حکومت نے کورونا وائرس کے کیسز اور اموات بڑھنے پر لاک ڈاؤن میں سختی پر غور شروع کردیا ہے. انہوں نے کہا کہ حکومت سخت لاک ڈاؤن پر مجبور ہو جائیگی، حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد نہ کرنے والی مسافر بسوں کو بند کردیا جائے گا‘ شبلی فراز نے کہا ہے کہ عوام نے احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا تو جانی نقصان میں اضافہ اور متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے . وفاقی وزیر اسد عمر نے چیف سیکرٹریوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹریڈ یونینز کا مطالبہ تھا کہ کاروبار کھولے جائیں اور جب کاروبار کھول دیئے گئے تو اب ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا جا رہا جو کہ وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے اور اب ان ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائیگی. خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے مخصوص اوقات میں مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دی تھی لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی ملک بھر میں دکانوں کے شٹر کھل گئے اور بازاروں میں لوگوں کا رش لگ گیا تاہم متعدد جگہوں پر کورونا سے بچاؤکی احتیاطی تدابیر کو نہیں اپنایا گیا. کاروبار کھولنے سے قبل حکومتی ہدایت نامہ بھی دیا تھا جس کے تحت دکاندار اپنی دوکانوں میں زیادہ رش نہ کریں، سماجی فاصلہ کے اصول پر عملدرآمد اور دوکانوں میں سینیٹائزرز کا موجود ہونا یقینی بنایا جائے ایس او پیز کے تحت کاروباری مراکز میں عملہ محدود رہے گا، سارے عملے کے لیئے گلوز اور ماسکس پہننا بھی ضروری ہو گا. ملک کے تمام بڑے شہروں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی اور اکثر لوگ ماسک کے بغیر ہی نظر آئے سماجی فاصلہ تو درکنار، بازاروں میں رش اس قدر تھا کہ پیدل چلنا بھی محال ہو رہا تھا.