05:35 pm
کرونا وائرس بے قابو ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کچھ ہی گھنٹوں میں کیا ہنگامی کام کرنے والے ہیں

کرونا وائرس بے قابو ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کچھ ہی گھنٹوں میں کیا ہنگامی کام کرنے والے ہیں

05:35 pm


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )کرونا وائرس بے قابو ، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کچھ ہی گھنٹوں میں کیا ہنگامی کام کرنے والے ہیں، پاکستانیوں کیلئے بڑی خبر ۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کا کورونا صورتحال پر آئندہ 24 گھنٹے میں اہم خطاب متوقع ہے، وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کو احتیاطی تدابیراورایس اوپیز پرعمل کرنا ہوگا، حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے تمام اقدامات کئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق و
زیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی اور کورونا وائرس کی صورتحال پرغور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق گائیڈ لائنز فراہم کر دیں۔ اجلاس میں آئندہ سال کے وفاقی بجٹ سے متعلق تجاویز اور پارلیمنٹری سیشن پر بھی گفتگو کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرانے کیلئے حکومتوں کو ہدایات دی ہیں۔ کورونا وائرس کو روکنے کیلئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پرعمل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے تمام اقدامات کئے گئے ہیں۔ ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی کو ہنگامی بنیادوں پر دور کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے کورونا صورتحال سے متعلق اہم خطاب آئندہ 24 گھنٹے میں متوقع ہے۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور شریف فیملی پر بھی تنقید کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شریف فیملی کی چوری اور منی لانڈرنگ پکڑی گئی۔ شہبازشریف کے خلاف کیس بڑا اوپن ہے۔ جس طرح شہبازشریف اور دیگر کرپٹ لوگ بھاگ رہے ہیں۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ ان کی چوری پکڑی گئی۔ مزید برآں وزیرِاعظم عمران خان کی زیرصدارت آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ مشیر خزانہ نے رواں مالی سال کے محصولات، اخراجات و آئندہ بجٹ کے تخمینوں کا خاکہ پیش کیا۔ وزیراعظم کو ایف بی آرمیں اصلاحات کے حوالے سے پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری برادری کو ہرممکن آسانیاں فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ بجٹ میں کورونا سے متاثرہ صنعتی شعبے کی بحالی اور فروغ پرتوجہ دی جائے۔ حکومتی سبسڈیز کے بہترین اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ غیرضروری حکومتی اخراجات کا بوجھ کم کیا جائے اور آئندہ بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات میں کمی لانے پر بھی توجہ دی جائے۔ ترقیاتی منصوبوں میں نجی شعبے کی بھرپور شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے تخمینوں کو صوبوں کی مشاورت سے حتمی شکل دی جائے۔