01:41 pm
نظام میں بڑی تبدیلی، تیزترین اور کڑے احتساب کی طرف بڑا اقدام اٹھالیاگیا

نظام میں بڑی تبدیلی، تیزترین اور کڑے احتساب کی طرف بڑا اقدام اٹھالیاگیا

01:41 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک)اینکر عمران خان نے کہا کہ جو لوگ اقتدار میں رہتے ہیں، انکی بڑی بڑی پراپرٹیز ہوتی ہیں، انکا سارا بزنس ملک سے باہر ہوتا ہے، انکے بچے اور آنیوالی نسلیں زیادہ تر باہر رہتی ہیں، جو بیوروکریٹس ہیں وہ ریٹائر ہوکر یا سروس کے دوران باہر کی شہریت لے لیتے ہیں اور جتنا پیسہ انکے پاس ہوتا ہے اسے منی لانڈر کرکے باہر لے جاتے ہیں۔ یہ سوالات اکثر اٹھائے جاتے تھے کہ اتنی تنخواہ کے باوجود یہ کیسے عالیشان زندگی گزارتے ہیں۔کرپشن روکنے کیلئے ضروری تھا کہ جن لوگوں نے کرپشن کی ہے انہیں سزائیں دی
جائیں، لیکن کرپشن کے کیسز آگے بڑھتے نہیں، بہت سست روی سے چلتے ہیں، تین تین مہینے تک تو ڈیٹیں پڑتی ہیں، کچھ سیاسی اثرورسوخ ہوتا ہے، کچھ یہ لوگ نیب کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔ کچھ ادارے اتنے تگڑے نہیں ہیں کہ وہ چیزیں پتہ کرسکیں، انویسٹی گیشن کرنیوالے انویسٹی گیشن میں ایسے جھول چھوڑدیتے تھے جس سے کرپٹ لوگوں کو فائدہ پہنچتا تھا اور انویسٹی گیشن کرنیوالے انکے وکلاء کو بتادیتے تھے کہ فلاں جگہ جھول ہے اسکا فائدہ اٹھالیںاینکر عمران خان نے کہا کہ 2019 میں 1200 سے زائد ریفرنس تھے اور 1200 ارب سے زائد کرپشن کے کیسز تھے اور 12 ہزار کے قریب ملزمان ہیں جن کی انویسٹی گیشن ہورہی تھی، نیب کے 750 آفیسر ہیں وہ کیسے 12 ہزار ملزمان کو ہینڈل کرسکتا اور ان سے انکوائری کرسکتا ہے اور نیب پراسیکیوٹرز تو نہ ہونے کے برابر ہیں، ان پر بہت زیادہ بوجھ ہوتا ہے اور وہ ٹھیک طریقے سے تیاری نہیں کرپاتا ۔ دوسری طرف ملزمان نے تگڑے وکیل کئے ہوتے ہیں، جن کی آٹھ ، دس لوگوں کی ٹیم ہوتی ہے اور وہ سرکاری وکیل کو اڑ کر رکھ دیتے ہیں۔تحریک انصاف کا نعرہ ہی کرپشن تھا اور انہیں آتے ہی ان پر کام کرنا چاہئے تھا، تحریک انصاف نئی احتساب عدالتیں، نئے نیب پراسیکیوٹرز، انویسٹی گیشن آفیسز بھرتی نہ کرپائی جس کی وجہ سے نیب بھی بدنام ہوئی ، حکومت بھی بدنام ہوئی اور کرپٹ لوگوں کو فائدہ پہنچا ۔ اس پر چیف جسٹس نے فورا 120 احتساب عدالتوں کا قدم اٹھایا ہے، اسکے لئے حکومت فنڈز بھی جاری کرےگی، سہولیات بھی دیگی، حکومت راستہ نہیں روکے گی بلکہ ہر سہولت دیگی۔اس اقدام کے بعد نہ صرف احتساب عدالتوں کی تعداد، نیب کے افسران میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہر عدالت میں الگ پراسیکیوٹر جائے گا اور یہ کیسز جلدی جلدی نمٹیں گے، پچھلی حکومتوں میں جو نیب میں بھرتیاں ہوئیں وہ سیاستدانوں نے کروائیں ، انہوں نے کیسز میں جان بوجھ کر کوتاہیاں کیں اور کیسز کو جان بوجھ کر کمزور کیا اور اسکا فائدہ ملزمان کو دلوانے کیلئے انکے وکلاء کو بتادیتا تھا کہ فلاں جگہ جھول چھوڑا ہے۔اینکر عمران خان کے مطابق اب بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر نہیں ہوگی، افسران نیب میں ڈیپوٹیشن پر آئیں گے، غیر سیاسی ہوں گے اور آنیوالے دنوں میں آپ احتساب کا تیز ترین عمل دیکھیں گے۔آخرمیں اینکر عمران خان نے دعویٰ کیا کہ بہت ممکن ہے کہ پاکستان میں ایک ریفرنڈم کروایا جائے اور یہ ریفرنڈم کرونا کی وبا ختم ہونے کےبعد ہوسکتا ہے۔اینکر عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ ریفرنڈم کس بات پر ہوگا لیکن ذرائع کے مطابق ریفرنڈم صدارتی نظام پر ہوگا۔

تازہ ترین خبریں