04:17 pm
میاں ایم پی اے تو بیوی ایم این اے، ملک کے ایسے گھرانے جن کے میاں بیوی سیاست کے میدان کے کھلاڑی ہیں

میاں ایم پی اے تو بیوی ایم این اے، ملک کے ایسے گھرانے جن کے میاں بیوی سیاست کے میدان کے کھلاڑی ہیں

04:17 pm

پاکستان کے اندر سیاست کرنا ایک مشکل عمل ہے سیاستدانوں کی شہرت اور ذاتی زندگی بھی شوبز کے لوگوں کی طرح لوگوں کے لیے گفتگو کا مزیدار موضوع ہوتی ہے اور ان کے اسکینڈل وقتاً فوقتاً میڈیا کی زد میں آتے رہتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سارے سیاستدان ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے گھر کی خواتین کو سیاست سے دور رکھا- مگر ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جن میں پورے گھرانے عملی سیاست کا نہ صرف حصہ رہے بلکہ اسمبلی میں بھی منتخب ہو کر آئے- مثال کے طور پر نصرت بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو ،نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز غیرہ قابل ذکر
ہیں- حالیہ دور میں بھی ایسے سیاست دان جوڑے موجود ہیں جو کہ بیک وقت نہ صرف اسمبلی میں موجود ہیں بلکہ میاں بیوی دونوں سیاست کے میدان میں اپنا اپنا مقام رکھتے ہیں- ایسے ہی کچھ جوڑوں کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے- 1: ہمایوں اخوند اور زرتاج گل زرتاج گل جو کہ حالیہ اسمبلی میں موسمی تبدیلیوں کی وزير کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں- ان کا تعلق خیبر پختونخواہ کے علاقے وزیر ستان سے تھا اور انہوں نے 2005 میں پاکستان تحریک انصاف کی اسٹوڈنٹ فیڈریشن میں بطور رضا کار شمولیت اختیار کی تھی اور 2013 کے الیکشن میں ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے الیکشن لڑا تھا- مگر اس میں ناکام ہونے کے بعد 2018میں دوبارہ سے اس نشست سے الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی تھی- 2010 میں ہمایوں اخوند سے شادی کے بعد ڈيرہ غازی خان منتقل ہو گئی تھیں اور حال ہی میں کووڈ 19 کی تعریف کے حوالے سے سوشل میڈيا میں کافی شہرت کی حامل ہیں جب کہ ان کے شوہر ہمایوں اخوند بھی ڈیرہ غازي خان کی جانی پہچانی سیاسی شخصیت ہیں اور 2013 کے الیکشن میں انہوں نے بھی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ سے الیکشن لڑا تھا- مگر بہت کم مارجن سے آزاد امیدوار سے شکست کھا گئے تھے- 2: عائلہ ملک اور یار محمد رند عائلہ ملک کا تعلق ایک سیاسی خانداں سے ہے اور وہ امیر محمد خان آف کالا باغ کی پوتی ہیں- ان کی بہن سمیرہ ملک بھی سیاست کی جانی مانی شخصیت ہیں- عائلہ ملک 2002 سے 2007 کے درمیان بطور قومی اسمبلی کے رکن کے خواتین کی نشست پر اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں- اور حالیہ الیکشن میں میانوالی کی نشست کے لیے وزیر اعظم عمران خان کی الیکشن کیمپئين کی انچارچ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں جب کہ ان کے شوہر اس وقت بلوچستان اسمبلی سے پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے ہیں- اس کے علاوہ وہ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جب کہ پرویز مشرف کے دور میں وفاقی وزیر کے طور پر بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں- 3: میر منور تالپر اور فریال تالپر فریال تالپر جن کو پاکستانی سیاست میں ادی یعنی بہن کے نام سے پہچانا جاتا ہے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی بہن ہیں- انہوں نے اپنے سیاسی کیرئير کا آغاز 1990 میں کیا اور 1997 میں نواب شاہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا مگر اس میں ناکام رہیں اس کے بعد انہوں نے 2001 میں نواب شاہ کی ناظم کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں- حالیہ وقت میں وہ سندھ اسمبلی کی ممبر کے طور پر منتخب ہوئی ہیں اور نیب کی انکوائریز کے سبب کچھ وقت جیل میں بھی گزار کر آئی ہیں جب کہ ان کے شوہر میر منور علی تالپر گزشتہ کئی دہائيوں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سر گرم رکن رہے ہیں اور حالیہ دور میں میر پور خاص سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں- 4: خواجہ آصف اور مسرت آصف خواجہ آصف کا نام اور مسلم لیگ کا نام ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہے- 2013 کے الیکشن میں انہوں نے بطور وزير خارجہ اپنی خدمات انجام دی تھیں اور حالیہ اسمبلی میں بھی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جب کہ ان کی بیگم مسرت آصف حالیہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کی خواتین کی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں- اور اس وقت یہ میاں بیوی دونوں ہی اسمبلی کا حصہ ہیں- 5: ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور فہمیدہ مرزا سیاست کے میدان میں یہ جوڑا اپنے آغاز میں پیپلز پارٹی کے نام سے جانا جاتا تھا مگر بینظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری کے ساتھ اختلافات کے سبب انہوں نے پیپلز پارٹی چھوڑ دی- اور حالیہ دنوں میں یہ سندھ میں بننے والے گریٹ ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ ہیں اور فہمیدہ مرزا اس وقت رکن قومی اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ بطور وزیر بین الصوبائی تعلقات کے کام کر رہی ہیں-

تازہ ترین خبریں