06:36 am
لائن انتظامیہ کاایکشن،پاکستانی پائلٹوں کی نوکریاں دائوپرلگ گئیں

لائن انتظامیہ کاایکشن،پاکستانی پائلٹوں کی نوکریاں دائوپرلگ گئیں

06:36 am

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وزیر ہوا بازی کے پائلٹس جعلی لائسنس کا بیان، پاکستانی پائلٹوں کی مشکلات کم نہ ہو سکیں۔ افریکی ائیرلائینز سے وابستہ پاکستانی پائلٹوں کی نوکریاں بھی داؤ پر لگ گئیں۔تفصیلات کے مطابق  پاکستانی پائلٹوں کی مشکلات کم نہ ہو سکیں۔ امریکہ، یورپی یونین، یوکے، دبئی کے بعد افریکی ائیرلائینز کی جانب سے ایکشن لے لیا۔ افریکی ائیرلائینز سے وابستہ پاکستانی پائلٹوں کی نوکریاں بھی داو پر لگ گئیں، 
ایتھوپین ائیرلائن انتظامیہ نے پاکستانی پائلٹوں کی اسناد اور لائسنس بارے تفصیلات طلب کر لیں۔اس حوالے سے ایتھوپین ائیرلائن انتظامیہ نے وزارت خارجہ اور سی اے اے حکام کو خط لکھا۔خط میں تحریر کیا گیا کہ پاکستانی پائلٹوں کے مشتبہ لائسنسز بارے بیان سے دنیا بھر کی طرح ایتھوپیا میں بھی تشویش پیدا ہوئی۔ایتھوپین ائیرلائن میں 5 پاکستانی پائلٹ کام کررہے ہیں۔پائلٹس میں میاں طاہر ریحان، شہزاد عزیز، محمد جمیل، انعام اللہ جان اور محمد سہیل شامل ہیں۔خط کے متن میں بیان کیا گیا کہ پانچوں پائلٹ گزشتہ ایک سال سے ایتھوپین ائیرلائن بطور کپتان خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مشتبہ لائسنس کے حوالے سے ائیرلائن سی ای او کی پاکستانی پائلٹس سے میٹنگ ہوئی۔میٹنگ میں پائلٹس کی نوکریاں لائسنس اور اسناد کی تصدیق سے مشروط کی گئی ہیں۔ایتھوپین ائیرلائن انتظامیہ نےپاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پانچوں پائلٹس کی اسناد اور لائسنس کے اصلی یا جعلی بارے تفصیلات فراہم کی جائیں۔پاکستانی سی اے اے سے لائسنز ہولڈر پائلٹس 30سال تک پی آئی اے میں بھی کام کرتے رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ یورپین یونین ائیر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کا فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کیلئے معطل کردیاتھا۔معطلی کا اطلاق یکم جولائی 2020 رات 12 بجے یو ٹی سی ٹائم کے مطابق تھا، جس کے باعث پی آئی اے کی یورپ کی تمام پروازیں عارضی طور پر منسوخ ہو گئیں تھیں۔ترجمان پی آئی اے کاکہناتھا کہ یورپین فضائی سیفٹی کے ادارے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ان کے خدشات کو دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ حکومتی اور انتظامیہ کی جانب سے لئے گئے اقدامات کے باعث معطلی جلد ختم ہوگی۔